جیسے بھی حالات بدلتے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: ثانیہ مرزا, حیدر آبادجیسے بھی حالات بدلتے
لیکن میرے ساتھ وہ چلتے
جانے کس کی نظر لگی ہے
جل گیا گلشن پھولتے پھلتے
مٹ گئیں ہاتھوں کی ریکھائیں
ان کے ہجر میں ملتے ملتے
تنہائی میں سرد رتیں بھی
کٹ جائیں گی جلتے جلتے
جس نگری کے وہ باسی تھے
ہم اس سے کس طور نکلتے
اپنی صورت بھول گئے ہم
روز نیا اک بھیس بدلتے
جو کرتے تھے گل افشانی
وہ بیٹھے ہیں زہر اگلتے
گلشن میں رت کیسی آئی
مالی ہیں خود پھول مسلتے
چھاؤں دیتے پیڑ یہاں پر
دیکھ رہا ہوں جلتے بلتے
جانے کس دم شام ہو جاۓ
زیست کا سورج ڈھلتے ڈھلتے
بدل گئے سب دیپک راہیں
لوگ ملے جو چلتے چلتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






