قفس نشیں دل

Poet: ملایکہ احمد By: Malaika Khan, Lahore

اگرچہ میرے پاس روابط کے تمام ذرائع ہیں میسر،
‎مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔

‎دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
‎کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔

‎میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
‎وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔

‎ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
‎ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔

Rate it:
Views: 0
14 Jul, 2026
More Sad Poetry