قصور کی بے قصور زینب کے نام
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreنہیں بدلتا یہاں کچھ بھی آرزو سے فقط
نہیں بدلتا یہاں کچھ بھی جستجو سے فقط
ترے لہو سے اے زینب ترے لہو ہی سے
ترے لہو کے تقدّس اور آبرُو ہی سے
مجھے یقیں ہے ہمارا جہان بدلے گا
زمین بدلی گی اور آسمان بدلے گا
یہ خار بدلیں گے یہ خارزار بدلے گا
سیاستوں کابھی یہ کاروبار بدلے گا
خباثتوں کا یہ سارا زمانہ بدلے گا
فریب و مکر کا یہ کارخانہ بدلے گا
خبیث لوگوں کا طرزِ کلام تو دیکھو
ذلیل لوگوں کا طرزِ خرام تو دیکھو
غرور و کبر کا سارا خمار اُ ترے گا
منافقت کا یہ سارا غبار اُترے گا
صراحی بدلے گی مینا و جام بدلیں گے
نظر یہ آتا ہے سارے غلام بدلیں گے
یہ ساقی بدلے گا یہ انتظام بدلے گا
مجھے یقیں ہے کہ سارا نظام بدلے گا
جو صور پھونکا ہے تیرے لہو نے اے زینب
جو نور پھیلا ہے تیرے لہو سے اے زینب
مجھے یقیں ہے یہ ظلمت کو دور کر دے گا
یہ پھیلتی ہوئی وحشت کو دور کر دے گا
تُو حور جیسی تھی تیرا کوئی گناہ نہیں
ہمارے واسطے لیکن کہیں پناہ نہیں
ترے ماں باپ تو روئیں گے عمر بھر کے لئے
ترے عزیز نہ سوئیں گے عمر بھر کے لئے
کسی بھی رات میں اِن کو سکوں نہیں ملنا
کسی بھی بات سے سوزِ دروں نہیں مٹنا
کسی بھی پہلو سے اِن کے لئے قرار نہیں
کوئی بہار بھی اِن کے لئے بہار نہیں
خدایا اِس کو تو اب زندگی نہیں ملنی
ہمیں بھی اب کہیں آسودگی نہیں ملنی
جو اِس کے حق میں اُٹھے ہاتھ اُن کو دیکھ ذرا
کہ کس نے کس کا دیا ساتھ اُن کو دیکھ ذرا
اُٹھا ہے لوگوں کا جمِ غفیر دیکھو تو
ابھی تو جاگا ہے ان کا ضمیر دیکھو تو
یہاں پہ مائیں بھی آئی ہیں سر جھکائے ہوئے
کھڑے ہیں بچے بھی یاں اپنا سر اُٹھائے ہوئے
دریدہ جن کی ردائیں ہیں اُن کو دیکھ ذرا
جو خوں میں بھیگی قبائیں ہیں اُن کو دیکھ ذرا
لرز رہی ہیں جو لب پہ صدائیں وہ سن لے
جو اُٹھ رہی ہیں دلوں سے دعائیں وہ سن لے
خدایا اپنا کسی اور سے سوال نہیں
یہ ظلم وہ ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں
ہمیں امید نہیں ہے کسی بھی حاکم سے
کوئی تمنا نہیں ہے کسی بھی خادم سے
خدایا تم کو ہیں تیرے جلال کی قسمیں
ترے جلال کو تیرے کمال کی قسمیں
ہمارے ملک کو خود ہی بچا تُو دشمن سے
کوئی بھی پھول نہ توڑے ہمارے گلشن سے
کوئی چُرائے نہ رنگت ہمارے پھولوں کی
کوئی اُڑائے نہ خوشبُو ہماری کلیوں کی
جہاں پہ کچھ بھی نہ ملتا ہو ٖ جب غریبوں کو
جہاں سہولتیں ملتی ہوں بس امیروں کو
جہاں پہ ظلم کی چکی میں بچے پستے ہوں
تڑپتے ہوں جہاں بوڑھے جواں سسکتے ہوں
یہ لڑکیاں بھی کھڑی ہیں اِنہیں بھی دیکھ ذرا
یہ کچھ بے ہوش پڑی ہیں اِنہیں بھی دیکھ ذرا
بہت سے لوگ ہیں وہ جو کے بولتے ہی نہیں
کسی کے خوف سے وہ منہ کو کھولتے ہی نہیں
جہاں پہ عزتیں پامال ہوں غریبوں کی
جہاں پہ بستیاں بد حال ہوں فقیروں کی
جہاں حکومتیں قائم ہوں بے ضمیروں کی
جہاں پہ پیروی کی جائے بس شریروں کی
جدھر بھی دیکھئے انصاف کی دہائی ہے
جدھر بھی دیکھئے مظلوموں کی پٹائی ہے
کسی بھی شخص کی عزّت یہاں نہیں محفوظ
کسی بھی رشتے کی حرمت یہاں نہیں محفوظ
کسی بھی بیٹی کی عصمت یہاں نہیں محفوظ
کسی بھی بیٹے کی غیرت یہاں نہیں محفوظ
یہاں پہ پگڑیاں عزت کی داغدار ہوئیں
یہاں پہ چادریں عصمت کی تار تار ہوئیں
غریب لوگوں کا پُرسانِ حال کوئی نہیں
کسی بھی شخص کو اِن کا خیال کوئی نہیں
یہ لوگ ہم کو تو انسان مانتے ہی نہیں
یہ اپنے رب کی کوئی شان جانتے ہی نہیں
خدا نے چاہا تو زینب اُسی کی مرضی سے
مجھے یقیں ہے کہ تیرے لہو کی سُرخی سے
ہمارے ملک میں فصلِ بہار آئے گی
جو نیکیوں کی بھی خوشبُو کو ساتھ لائے گی
فلک پہ تاروں کو ملنے لگی چمک دیکھو
زمیں پہ پھولوں کو ملنے لگی مہک دیکھو
جو خون چمکا ہے تیرا وہ روشنی بن کر
فلک پہ چمکے گا جا کے وہ چاندنی بن کر
دلوں میں لوگوں کے اُترے گا آگہی بن کر
رگوں میں دوڑنے آئے گا زندگی بن کر
میں اپنی چشمِ تصور سے دیکھتا ہوں تجھے
میں بے خودی ہی میں اکثر یہ پوچھتا ہوں تجھے
حضورِ پاکﷺ نے تم کو اُٹھا لیا ہوگا
اُٹھا کے سینے سے اپنے لگا لیا ہوگا
حضورِ پاکﷺ نے رو رو کے اپنے اشکوں سے
تمہارے چاندسے چہرے کو دھو دیا ہو گا
یوں تیرے ماتھے کو پھر چوم کر کہا ہو گا
بڑی توجہ سے رب نے جسے سُنا ہو گا
یہ کون ہے جو یہاں حور بن کے آئی ہے
یہ کون ہے جو یہاں نور بن کے آئی ہے
وہ لوگ سانپ ہیں جو بچیوں کو ڈستے ہیں
جو قتل کرتے ہیں ان کا لہو بھی پیتے ہیں
خدایا واسطہ تم کو ہے تیری عزّت کا
خدایا واسطہ تم کو ہے تیری غیرت کا
تو خود ہی بدلہ چکا دے ہماری زینب کا
تو خود ہی ذمہ اُٹھا لے پیاری زینب کا
کسی بھی درجے میں جو بھی ہمارا مجرم ہے
کسی بھی درجے میں مجرم کا جو بھی محرم ہے
جلا کے اِس کو کسی آگ سے تو کر دے راکھ
کہ تیری دنیا میں رہ جائے کچھ تو اپنی ساکھ
خدایا واسطہ تم کو تری جلالت کا
خدایا واسطہ تم کو ہےتیری عظمت کا
حرام خو روں کو جڑ سے اُکھاڑ دے مولا
تُو ان خبیثوں کو خود ہی پچھاڑ دے مولا
خدایا یہ بھی تقاضا ہے تیری رحمت کا
نشان ان کو بنا دے یہاں پہ عبرت کا
تُو ایسے لوگوں کو برباد کردے اے مولا
کبھی غریبوں کو بھی شاد کردے اے مولا
میں دیکھتا ہوں فرشتوں کا دل دہلنے لگا
وہ دیکھ عرشِ الٰہی بھی اب کے ہلنے لگا
یہیں پہ ٹھہرو کوئی فیصلہ نہ آ جائے
یہیں پہ ٹھہرو کوئی زلزلہ نہ آ جائے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






