قسم
Poet: صداقت حسین By: صداقت حسین, Duniyapurجينےکى قسم جو دى ہے اُس نے سو اب جياکروں گا
زندگى زہر سى کردى اُس نے سو اب يہ زہر پياکروں گا
اُس کى ياد کے زخموں کو اپنے درد کى سوئى سے
روز روز ہر روز سِياکروں گا مگر قسم جو کهائى ہے جياکروں گا
سوچتا هوں زہر بهى پِيا کروں گا مگر پهر کيسے جيا کروں گا
جينےکى قسم جو دى ہے اُس نے سو اب جِياکروں گا
جى نہ سکوں اور نہ مروں زہر اب کوئى ايسا پِيا کروں گا
اُس کى يادوں کواُٹهاۓ کبهى اِس گلى کبهى اُس گلى پهراکروں گا
خودکشى تو کرنى نہيں سو اب کچھ اور ہى کيا کروں گا
کچھ روز زنده رہنے کے ليے ہر روز ہر پل ہر لمحہ مرا کروں گا
مارکر ٹهوکرشيشےجيسےخوابوں کوپهرکنکرلبوں سےچُنا کروں گا
اورپهر تنہا دور کسى جنگل ميں تنہا تنہا ہى رہاکروں گا
چپ ميں ہميشہ ہميشہ ہميشہ ہى رہا کروں گا
ميرےسامنےجب کبهى تُوآئى توتجھے صرف اتناکہاکروں گا
توخوش رہاکرہميشہ تجهےاُداس ديکھ کرميں مرا کروں گا
توخوش رہى تو ميں نہ تجھ سےملاکروں گا نہ گِلاکروں گا
نہ جى سکوں گانہ مراکروں گا ميں مگرکوشش کيا کروں گا
جينےکى قسم جو دى ہے اُس نے سو اب جيا کروں گا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






