سنگھار

Poet: Haya Ghazal By: Haya Ghazal, Karachi

یاد ہے مجھ کوجو اس نے کہا تھا مجھ سے
کیسے اظہار کیا تھا نہیں بھولوں گی کبھی
دھیرے سے اس نے کہا کاش کبھی ایسا بھی ہو
میں تجھ میں زندہ رہوں
تیرے "سنگھار"کا حصہ بن کر
تو بڑے ناز سے بڑے چاؤ کے ساتھ
ہر اک دن کا آغاز کرتی مجھ سے
کاش....میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن بن کر
بے نیازی سے یونہی جھولتا ہاتھوں میں ترے
بات کرتے ہوئے تو یونہی کھیلتی مجھ سے
اپنی سکھیوں میں تو میری نمائش کرتی
کاش..............................
کاش ہوتا میں تیرے کان کی بالی جو کبھی
میں ترے لمس کو محسوس تو کرتا اکثر
تیری لو کو چھوتا بے خیالی سے بارہا
اور کبھی....................
تیری لٹ جو الجھ جاتی مجھ میں
تو بڑے پیار سے سلجھاتی اس کو
میں رشک سے تیرے گالوں پہ جھومتا رہتا
کاش .....................
کاش ہوتا میں گردن میں پڑے لاکٹ کی طرح
تیری سانسوں کو میں بھی سن پاتا
تیری دھڑکن سے آشنا ہوتا
میرے آتے ہی جو بڑھ جاتی تھی کبھی
کاش میں تیری نازک سی انگلی
کی انگوٹھی بن کر
پیار کی ایک حسیں نشانی کی طرح
پاس رہتا تیری ذات کا حصہ بن کر
کاش میں ...............
تیرے گداز پاؤں کی پائل ہوتا
تو بڑے ناز سے اٹھلاتی ہوئ چلتی پھر
اور ............
دبے پاؤں تو بڑھتی اچانک جو کہیں
شور کرتا تیرے قدموں کو روک دیتا وہیں
لیکن...........................؟
ایسا کچھ تو نہ ہوا
تو نے سمجھا ہی نہیں کبھی
پیار کی سچائ کو
گرادیا مجھے آنکھ کا بنا کر آنسو
میں جانتا ہوں پر آج نہیں تو پھر کبھی
تو مجھے یاد کرے گی اکثر
تنہائیاں جب ڈسیں گیں تجھ کو
وسوسے تجھ کو ہر گام ڈرائیں گے جب
تو گھبرا کر مجھے آواز تو دے گی کبھی
پر مری جان....................
اس وقت میں نہیں ہوں گا
تیری آواز پلٹ آئے گی
دیواروں سے ٹکراتے ہوئے
زخم بن کر ترے دل سے رستا رہوں گا ہردم
اب جا رہا ہوں................
واپس تو نہیں آؤں گا میں
کاش کاش تو یہ بات پہلے ہی سمجھ لیتی پر
یہ بھی تقدیر کا ہے کوئ فیصلہ شاید
الوداع.......الوداع.......الوداع.......
یاد رکھنا مجھے اپنی دعاؤں میں
مری جان میرا الوداع لینا
میری جان الوداع کہنا

Love is end with die
 

Rate it:
Views: 999
14 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL