زندگی کی حسیں لمحے تب یاد آتے ہیں
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliچمن میں جب بھی غنچے مسکراتے ہیں
نغمے جب بھی بلبل اپنے سناتے ہیں
گل جب باغ میں شبنم سے نہاتے ہیں
پرندے جب ہر طرف گیت گاتے ہیں
جو تیرے ساتھ گذرے تھے مجھے وہ
زندگی کی حسیں لمحے تب یاد آتے ہیں
کلیاں جب کھلتی ہیں بہاروں میں
لطف جب آتا ہے حسیں نظاروں میں
پرندے جب اڑتے ہیں قطاروں میں
نظر جب رکتی ہے چاند ستاروں میں
جو تیرے ساتھ گذرے تھے مجھے وہ
زندگی کی حسیں لمحے تب یاد آتے ہیں
نظر مجھ کو جب کسی میں جمال آتا ہے
یاد مجھ کو پھر قدرت کا کمال آتا ہے
آنکھ میں جب کسی کا رعب و جلال آتا ہے
جب بھی مجھ کو کسی اپنے کا خیال آتا ہے
جو تیرے ساتھ گذرے تھے مجھے وہ
زندگی کی حسیں لمحے تب یاد آتے ہیں
جب بھی کوئی پیار کا گیت گانے لگتا ہے
مجھ پہ بھی اک نشہ سا چھانے لگتا ہے
ہوش جب بھی پی کر میرا جانے لگتا ہے
دل میرا تیری یاد میں ستانے لگتا ہے
جو تیرے ساتھ گذرے تھے مجھے وہ
زندگی کی حسیں لمحے تب یاد آتے ہیں
کسی کو جب بھی میں شاد دیکھتا ہوں
ہر غم و فکر سے جب آزاد دیکھتا ہوں
اپنوں کے ساتھ کسی کو آباد دیکھتا ہوں
بچھڑے ہوؤں کو کرتے یاد دیکھتا ہوں
جو تیرے ساتھ گذرے تھے مجھے وہ
زندگی کی حسیں لمحے تب یاد آتے ہیں
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






