دن کے ماتھے پہ غم کا سورج ہے، شب کے ہونٹوں پہ ہجر طاری ہے
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatدن کے ماتھے پہ غم کا سورج ہے، شب کے ہونٹوں پہ ہجر طاری ہے
گردش وقت اس کو کہتے ہیں ؟ زندگی! یہ تیری شماری ہے؟
ہم کو تھی آبلہ پائی کی طلب، تو نے آنکھوں میں بھر دیے صحرا،
اب کیوں پیروں میں دیکھ کر یہ حنا، تیرے چہرے پہ سوگواری ہے؟
حوصلوں کی دکان کھول کہ ہم، تیرے سب غم خرید لیتے تھے
تم تو خوشحال ہو گئے لیکن، میری رگ رگ میں درد کاری ہے
رات پچھلے پہر کا سناٹا، تیری باتوں کا ورد کرتا ہے
درد آنکھوں میں رقص کرتے ہیں، یاد کی ہر سبیل جاری ہے
میں نے دیکھا ہے تیرے چہرے کو، زرد موسم کا حال کہتا ہے
تیری سانسوں کو چھو کہ دیکھا ہے، بے قراری ہی بے قراری ہے
لوگ کہتے ہیں کہ صبح ہو گی، زندگی تو مگر کہاں ہو گی
وہ جو ایک صبح کا ستارا تھا، اسکے صدقے یہ جان واری ہے
جسکی مٹی میں دن کا سورج ہو، اور زلفوں میں رات کے سائے
اسی جلتی کلائی کی لو میں ، میں نے یہ غم کی شب گزاری ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






