جنوں میں ، آگ کا دریا نظر نہیں آتا
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatجنوں میں ، آگ کا دریا نظر نہیں آتا
وفا کے قیس کو صحرا نظر نہیں آتا
وہ جنکو فاصلے ہر پل ڈرائے رکھتے ہیں
انہیں کبھی کوئی رستہ نظر نہیں آتا
عجیب شہر ہے مردوں سے بات کرتا ہے
کوئی بھی شخص یاں زندہ نظر نہیں آتا
یہ چند لوگ میری دسترس میں ہیں لیکن
کوئی بھی ان میں یاں اپنا نظر نہیں آتا
یہ کون ہے جو مجھے مشکلوں میں تھامے ہے
یہ شخص مجھکو شناسا نظر نہیں آتا
وہ جنکے گھر میں ہوس کے چراغ جلتے ہوں
انہیں گلی میں اندھیرا نظر نہیں آتا
زمانہ لاکھ برائی کرے مگر اے دوست
مجھے یہاں کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا
یہ دشت دور سے بنجر ضرور ہے لیکن
کوئی بھی شخص یاں بھوکا نظر نہیں آتا
شجر مثال ہے چھاؤں نثار کرتا ہے
یہ اسلئیے کبھی پیاسا نظر نہیں آتا
زبان خلد میں کس سے کلام کریں کہ یاں
کوئی بھی ہمکو فرشتہ نظر نہیں آتا
جو شخص لوگوں کی خوبی نظر میں رکھتا ہو
اسے کسی کا بھی دھوکا نظر نہیں آتا
عجیب راز چھپا ہے ہر ایک سینے میں
جو جیسا ہے کبھی ویسا نظر نہیں آتا
اشعار وحی کی مانند اترتے رہتے ہیں
کہ جب سکون کا لمحہ نظر نہیں آتا
یہ لوگ کسطرح رستے بدل رہے دیکھو
یہ مجھ کو میرا قبیلہ نظر نہیں آتا
بہت زرخیز تھی چاہت کیلیئے دل کی زمیں
اور اب کہیں کوئی سبزہ نظر نہیں آتا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






