جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو

Poet: SABA KOMAL By: SABA KOMAL, KSA

میرے ھاتھوں کے کنگن کچھ بھی کہیں
تم میری سنو تم مجھ سے کہو
تم میرے لبوں کو مت دیکھو
آنکھوں میں میری مت جھانکو
بس میرے الفاظوں کو سن لو
جو میں نے کہا بس وہ ہی سنو

یہ کنگن تو روپ سجاتے ہیں
ھونٹ کیا سے کیا کہہ جاتے ہیں
آنکھیں بھی سپنے دکھاتی ہیں
ہر لمحے خواب جگاتی ہیں
بس میری باتوں پہ غور کرو
جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو

گجروں کی خوشبؤ محصور کرے
کاجل کی دھار مجبور کرے
زلفیں تجھ کو بے خود کر دیں
بس ان سب سے تم دور رھو
جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو

گجروں کی خشبؤ تو فانی ھے
کاجل میں رات طوفانی ھے
زلفوں میں شام سہانی ھے
ناں انکے ھاتھوں مجبور رھو
بس جو میں نے کہا تم وہی سنو

پائل بھی شور مچائے گی
بندیا بھی تجھے بلائے گی
چوڑی کی کھنک جلائے گی
ھر لمحے ان سے دور رھو
بس جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو

پائل کا کام تو بلانا ھے
بندیا نے بھی من کو جلانا ھے
چوڑی نے ٹوٹ ہی جانا ھے
ان سب کی ناں آواز سنو
بس جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو
ھاں جو میں نے کہا بس وہ ہی سنو

Rate it:
Views: 1651
09 Jan, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL