تُو سرخرو ثمّر
Poet: Gulzaib Anjum By: Gulzaib Anjum, Dubaiنھنے دوست کے نام
(یاد رہے اِس میں شامل تمام نام اُس کی فیملیزکے ہیں)
چمکتے رہیں سدا تیری تقدیر کے اختر
چمکتا ہے جس طرح آکاش پہ قمر
مچی رہے یونہی دھوم تیرے اخلاق و لیاقت کی
بستی ساری رہے تیری یادوں سے عامر
تیری باتوں کا اثر رہے یُونہی نوشین
ملے رفعت تجھے ہر گام پہ اللہ و اکبر
مثل ابرق ٹپکتی رہے تجھ ست زہرہ
خدا تیرا قدم قدم رہے ہامی و ناصر
تُو سدا پھیلتا پھولتا اور مہکتا رہے
اے گلستان فاروق کے نھنے سے شجر
اللہ کرے دوجہاں میں رہے تُو سرخرو ثمّر
ملے تیری کاوشوں کا خزانہ قدرت سے ثمر
کب بات پوری ہوئی ابھی تشنگی قلم باقی ہے
ڈرتا ہے زیبّ،سخن طرازی سے لگ نہ جائے نظر
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






