آخری لمحات
Poet: گلزیب انجم By: گلزیب انجم, Dubai جگر شکستہ ہے تو دیدے پُرنم ہیں میرے
کوئی پُرسان حال نہیں مگر ایسے حالات میں
رپٹ تو تب درج ہوتی زخم جو کچھ دکھلا پاتے ہم
دل میں پیوست ہو گے تیر چُھپے تھے جو نگاہ التفات میں
وہ حقیقت سے گریزاں رہا کچھ مبالغہ آرائی مجھے پسند نہ تھی
فرق دو ساحلوں سا رہا اُس کے اور میرے خیالات میں
رفتہ رفتہ کسکتا رہا آخر کسک گیا میرے ہاتھوں اُس کا ہاتھ
پچھتایا وہ بہت رہ گیا میرے ہاتھ کا لمس جو اُس کے ہاتھ میں
یہ آشفتہ سری نہیں تو کیا ہے کہ سر شام در کھلے چھوڑ دئیے
روٹھ گیا تھا جو دن میں شاید لوٹ آئے کسی پہر رات میں
تعجب نہیں روٹھنے پر اُس کے چلے جانے پر پیشماں نہیں میں
تھی خبر کے سایہ بھی چھوڑ جائے گا ایسے حالات میں
ہم تُجھ سے اُن مراسم کی امید نہیں رکھتے جو قصّہ پَارنیہ ہوئے
بس زندگی کی شام تمام ہوئی آجانا تدفین کے آخری لمحات میں
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






