ایک خوبصورت غزل

Poet: زوہیب سرور By: Zohaib sarwar , Sargodha

تم نے مجھے چھوڑا، ہم مرے تو نہیں
ہم نے دنیا والوں کو چھوڑا، دنیا تو نہیں

آ بیٹھے ہیں خلوت میں کہیں دور
مزاج میرا بدلا ہے، زمانہ تو نہیں

بدلے ہیں میں نے اپنے معاملاتِ زندگی
اس میں مرا کوئی کمال تو نہیں

سلسلے توڑ آیا محبت کے کہیں سارے
مجھ کو بھاتا اب اُس کے چہرے کا جمال بھی نہیں

میں جنگل میں خیمہ زن ہوئے بیٹھا ہوں، زیب
وہ ملتا تو لالٹین کی ضرورت بھی نہیں

اسے مری رنجشوں سے اگر فرق پڑتا
برملا نہ کہتی کہ اب مجھ کو تری ضرورت تو نہیں

چھوڑ آیا ہوں اپنے پیچھے پیار کرنے والی خدائی بھی
اے خدا! اب مجھے اس خدائی کی بھی ضرورت تو نہیں
 

Rate it:
Views: 0
03 Oct, 2026
More Love / Romantic Poetry