اک شخص جو ہم کو چھوڑ گیا
Poet: Qasim Shuakh By: Qasim Shuakh, Mananwala Sheikhupuraاک شخص جو ہم کو چھوڑ گیا
رخ اپنا ہم سے موڑ گیا
وھ ہم میں سب سے پیارا تھا
وھ بہت اچھا دوست ہمارا تھا
کب ہم نے ایسا سمجھا تھا
کب ہم نے ایسا سوچب تھا
اک دن چھوڑ ہمیں وھ جاۓ گا
ہم سب کو بے حد تڑپاۓ گا
اب کس سے میں بات کروں
اب کس سے میں ملاقات کروں
اداسی کا پیراہن ہم پر اوڑھ گیا
اک شخص جو ہم کو چھوڑ گیا
اس شخص کی ہنسی ایسی تھی
گلاب کی خوشبو جیسی تھی
خوشیوں کا ہوتا ہجوم سا تھا
میرا یار بڑا ہی معصوم سا تھا
اس کی یاد بہت اب آتی ہے
میرے دل کو بڑا ہی تڑپاتی ہے
ہاں ہوتا ہے ! ہاں ہوتا ہے
اب دل تو روز ہی روتا ہے
سب سے رشتے ناطے توڑ گیا
اک شخص جو ہم کو چھوڑ گیا
اب کون شرارتیں کرے گا
اب کون شکائیتیں کرے گا
اب کس سے میں لڑوں گا
اب کس سے شکوھ کروں گا
اب کس کو گلے لگاؤں گا
کسے دل کا حال سناؤں گا
اب سب لوگ چپ رہیں گے
بس اتنا ہی وھ کہیں گے
دل کو دل سے جوڑ گیا
اک شخص جو ہم کو چھوڑ گیا
اب کیسے یارو! میں کاش! کروں
اس جیسا دنیا میں تلاش کروں
شاید مجھ سے کوئ قصور ہوا ہے
میری اکھیوں سے وھ دور ہوا ہے
یہ سب کچھ ہونا ضرور تھا
میرے رب کو یہی منظور تھا
اس نے ساتھ ہمارا چھوڑنا تھا
ہم سب کا ، تمہارا چھڑنا تھا
پیچھے اپنے غم وھ چھوڑ گیا
اک شخص جو ہم کو چھوڑ گیا
وھ ' شوخ ' مجھے جب کہتا تھا
اپنی دھیمی دھیمی آواز سے یارو
ہنس کے گلے لگا کے یارو
وھ ' شوخ ' مجھے جب کہتا تھا
مجھے یہ نہیں آتا سمجھا دو نہ
مجھے وھ نہیں آتا پڑھا دو نہ
وھ ' شوخ ' مجھے جب کہتا تھا
اس موضوع پہ اک شعر ہو جاۓ
چند لفظوں کا اک ڈھیر ہو جاۓ
اب کون کہے گا
' شوخ ' مجھے
تم آؤ نہ یہاں بیٹھو نہ
تم جاؤ نہ یہاں بیٹھو نہ
اب کون کہے گا
' شوخ ' مجھے
یہ چھوٹا سا سوال سمجھا دو نہ
میرے دل کا مسئلہ سلجھا دو نہ
اب کون کہے گا
' شوخ ' مجھے
میرے یار میری تم جان ہو
تم میرے ہو میری پہچان ہو
اس دنیا سے وھ دوڑ گیا
اک شخص جو ہم کو چھوڑ گیا
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






