اک دلربا ملا تھا لگتا تھا آشنا سا
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leedsاک دلربا ملا تھا لگتا تھا آشنا سا
مخمور سی نگاھیں نام تھا بھلا سا
مسکان تھی یا کلیوں کی لڑی تھی
وہ بنایا گیا تھا اوروں سےجدا سا
انجمن کی جان تھی یانغمے کا ساز تھا
رفاقت تھی اسکی احساس تھا فدا سا
نظر جب وہ آئےھر چیز بھول گیا تھا
لذت سرور سے بھرپور تھا نشہ سا
خلوت میں وہ جمال جلوت میں وہ ادا
مانوس سی وہ زلفیں غنچہ تھا کھلا سا
ندی کا وہ پانی جو عکس دے رھا تھا
تصویر لے رھا تھا جیسے اک آئینہ سا
موجیں جس کو اٹھ اٹھ کے دیکھتی تھیں
پھولوں کی آغوش میں محو پری چہرہ سا
مہندی کی خوشبو ھر طرف بکھر رھی تھی
سرخی تھی لبوں پہ جیسے گلاب تھا کھلا سا
بجلی کی وہ چمک دل پر گر رھی تھی
وہ عالم مدھوشی میں لگتا تھا لجا لجا سا
بادل گھرے ھوئے تھے بارش برس رھی تھی
پرندے گا رھے تھے وہ کوئیلوں کا ھمنوا سا
اس آرزوئے دل پہ کون نہ مر جائے اے خدا
یہ خواب تھا یا حقیقت جنت کا راستہ سا
ھوش آیا تو نیندیں بھی اڑ گئی تھیں حسن
لگ گیا ھو جیسے راتوں کا رتجگا سا
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






