ايک معصؤم ننهےفرشتےكئ فرياداپنی ماں كےنام
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreماں تم کيوں زار و زاررو رهی هو ماں
ميری ماں کو اٹهاؤ كيوں بےهوش هو رهی هو ماں
ماں ميری طرف ديكهؤ ميں تمهارےسامنےهوںماں
ماں كيؤں مجھ كؤ نہلايا جا رها هے ماں
ماں مجھ كو كيؤں سفيدلباس اوڑهايا جا رها هے ماں
ماں مجھ كوچهين كر تيری گود سے كيؤں لےجايا جا رها هے ماں
ماں يه كيسی جگه مجھ كو سلايا جا رها هے ماں
ماںكہنےكو تو ميں يہاں پر سو رہا هوں ماں,
ماں مگر مجه كؤ نيند يہاں پر آتی نہيں هے ماں
ماں مجھ كو باہرنكالو ميں اكيلا رؤ رها هوں ماں
ماںبہت اندهيرا هے يہاں پر مجهے ڈر لگ رہا هے ماں
ماں مجهےكيؤں تجھ سے بهت دور كيا جا رها هے ماں
ماں ميری كو سنبهالو زرد پڑتی جا رهي هے ماں
ماں يہاںكا بسترمجهے ذرا اچها نهيں لگت
ماں اس دنيا سےمجهےاپنےآنچل ميں چهپا لو ماں
ماں مجهے تیرئ گودچاهے مجهےاپنی گود ميں بٹها لو ماں...
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






