اداس شام کی بانہوں میں رو رہی ہو گی ۔۔ گیت
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanغموں کی دھول کو اس طرح دھو رہی ہو گی
اداس شام کی بانہوں میں رو رہی ہو گی
حسیں رتوں کے تصور میں مبتلا ہو کر
نئے دکھوں کے کئی خار بو رہی ہو گی
ہے پیار اس کا حقیقت یہ مانتا ہوں میں
اسے قرار نہیں یہ بھی جانتا ہوں میں
وہ میرے پیار میں ہر چیز کھو رہی ہو گی
اداس شام کی بانہوں میں رو رہی ہو گی
رہے گا اس کو مرا انتظار صبح تلک
کرے گی بند نہ شب بھر وہ ایک لمحہ پلک
تھکی تھکی سی مگر دن کو سو رہی ہو گی
اداس شام کی بانہوں میں رو رہی ہو گی
نئی وفا، نئی الفت میں کھو نہیں سکتا
میں چاہوں بھی تو کبھی اس کا ہو نہیں سکتا
وہ پھر بھی پیار کے موتی پرو رہی ہو گی
اداس شام کی بانہوں میں رو رہی ہو گی
یہ وقت چپکے ہی چپکے گزرتا جائے گا
مگر یہ راز کوئی بھی نہ جان پائے گا
کہ پیار میں کبھی برباد وہ رہی ہو گی
اداس شام کی بانہوں میں سو رہی ہو گی
غموں کی دھول کو اس طرح دھو رہی ہو گی
اداس شام کی بانہوں میں رو رہی ہو گی
حسیں رتوں کے تصور میں مبتلا ہو کر
نئے دکھوں کے کئی خار بو رہی ہو گی
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






