Wo Kaon Thi?

Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sanglahill

Naghma E Tayyoor Tha
Noor Ka Zahoor Tha

Baad E Saba Thi Chal Rahi
Jawani Thi Machal Rahi

Patton Ka Ajab Shor Tha
Mehv E Raqs Mor Tha

Motiyon Ki Kitaab Thi
Moti Kya Sharaab Thi

Wo Ik Nigah Jo Pari
Wo Kaon Thi Wahan Khari?

Wo Hoor E Bajamal Thi
Nasha Tha ,Aik Jaal Thi

Wo Husn Kya Tha Teer Tha
Badan Bi Ghazl E Meer Tha

Main Paas Uss Ke Aa Gya
Khumaar Mujh Pe Chha Gya

Hos Meray Kho Gay
Hawas Meray So Gay

Haath Uss Ka Main Ne Thaam Ker
Kaha Keh Ai Noor E Nazar

Tu Kaon Hai Mujh Ko Bata
Lab Tu Hila Kuchh Tu Bata

Kehnay Lagi Wo Gulbadan
Ai Jaan E Jaan,Ai Jaan E Man

Main Pyaar Hoon,Qaraar Hoon
Goya Ke Rooh E Bahaar Hoo

Aa Mujh Ko Aa Ke Thaam Le
Aur Yeh Le Aik Jaam Le

Main Ne Baghair Soch Ke
Aqal Ko Apni Noch Ke

Ussi Ko Hamsafar Liya
Ussi Ko Zad E Rah Liya

Main Uss Main Hi Gumm Ho Gya
Ussi Main Qalb Kho Gya

Phir Aik Din Kya Huwa
Mast Tha Soya Huwa

Chupke Se Mujh Ko Chhor Ker
Naata Mujh Se Tore Ker

Chali Gai,Chali Gai
Wo Dard Mujh Ko De Gai

Kaghaz Tha Ik Wahan Para
Jis Pe Tha Likha Huwa

Duniya Mera Naam Hai
Yahi Mera Kaam Hai

Rate it:
Views: 1442
20 Sep, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL