Romantic Poetry in Urdu For Lovers
Poet: Laraib By: Laraib, LahoreThi Woh Bohat Haseen Magar Rehguzaar Thi
achay hi khandan se thi waza daar thi
dekha tha rastay mein usay bhagtay hue
mazboot they iraday bohat shandaar thi
thi to hijaab mein hi hsin woh balaan ki thi
aayi kisi chaman se thi dil kash bahhar thi
lagti kisi to achay hi ghar ki thi dostoo
jo ishhq mein maray to hui girftar thi
mein shakal dekh paaya nahi thi hijaab mein
apni misaal aap thi aur bawaqar thi
pehna naya tha suit liya kar tha make up
woh sath mere janay ko hui tayyar thi
mann maani apni karti thi ziddi balaan ki
khud faislay woh karne mein ba ikhtiyar thi
waday bohat kiye nah magar mil saka usay
har waqt karti rehti mra intzaar thi
mein is liye hi bhool nahi paaya hon usay
be los mujh se karti woh pyar thi
In Urdu
تھی وہ بہت حسین مگر رہگزار تھی
اچھے ہی خاندان سے تھی وضع دار تھی
دیکھا تھا راستے میں اسے بھاگتے ہوئے
مضبوط تھے ارادے بہت شاندار تھی
تھی تو حجاب میں ہی حسیں وہ بلاں کی تھی
آئی کسی چمن سے تھی دل کش بہار تھی
لگتی کسی تو اچھے ہی گھر کی تھی دوستو
جو عشق میں مرے تو ہوئی گرفتار تھی
میں شکل دیکھ پایا نہیں تھی حجاب میں
اپنی مثال آپ تھی اور باوقار تھی
پہنا نیا تھا سوٹ لیا کر تھا میک اپ
وہ ساتھ میرے جانے کو ہوئی تیار تھی
من مانی اپنی کرتی تھی ضدی بلاں کی تھی
خود فیصلے وہ کرنے میں با اختیار تھی
وعدے بہت کیے نہ مگر مل سکا اسے
ہر وقت کرتی رہتی مرا انتظار تھی
میں اس لیے ہی بھول نہیں پایا ہوں اسے
بے لوث مجھ سے کرتی وہ پیار تھی
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






