Pehli Mulaqat
Poet: M Nouman Siddique By: M Nouman Siddique, Wah CanttAo Nayee Kushyoon Ke Bat Karty Hain
Bat Ka Agaz Unhi Kushyoon Kay Sath Karty Hain
Luty To Hazaroon Hain Is Dunya Main
Ao Lut Kay Kushyan Pany Ke Baat Karty Hain
Wo Oogli Se Subha Wo Shabnam Ke Chamk
Parindoon Ka Shor, Wo Koyal Ke Ghanak
Din Ko Shoroh Suraj Ke Kirnon Kay Sath Karty Hain
Ao Chalo Pher Se Us Din Ke Bat Karty Hain
Mili To Ek He Nazar Ke Izajat Faqat
Palkyeen Girany Ke Rahi Nahi Sakat
Teri Khoobsurti Kay Kinary Ke Baat Karty Hain
Ao Nazreen Churany Ke Bat Karty Hain
Wo Nazar Ka Nazar Say Milna
Wo Parendoon Ka Hawaoon Main Phernaa
Tery Chary Say Dil Ko Serab Karty Hain
Ao Ankhoon Main Doob Jany Ke Baat Karty Hain
Adaoon Ke Nazuki , Ya Zulfoon Ke Shararat Ho
Jasy Har Cheez Husan Say Ibarat Ho
Teri Nazakat Ko Sehrany Ke Baat Karty Hain
Ao Aanchal Lahrany Ke Baat Karty Hain
Or Baat Ay Muskuraht Ke To Kea Kahny
Jasy Besh Qimat Mootyoon Kay Gehny
Teri Hasi Kay Chupany Kee Bat Karty Hain
Ao Dil Lubhany Ke Baat Kart Hain
Baat Ka Andas Ho , Ya Iklaq Ka Tarana
Wo Tera Subha Kay Agaz Pay Bolty He Jana
Teri Awaz Ka Jado Chalny Ke Bat Kary Hain
Ao Sehar Main Doob Jany Ke Baat Karty Hain
Pher Hoe Kuch Mulaqat Khatm Asy
Kay Zindagi Khatm Hoe Ho Jasy
Tumara Nam Bhool Jany Ke Baat Karty Hain
Ao Pher Say Naam Pooch Kay Any Ke Baat Karty Hain
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






