Muhabbat Nahi Hai
Poet: Bilal SameeR By: Bilal SameeR, KarachiTere Chehre Se Mujhe Muhabbat Nahi Hai
Tere Wajud Se Mujhe Muhabbat Nahi Hai
Ghata Ki Tarah Jo Dilon Par Cha Jaen
Taweel Zulfon Se Mujhe Muhabbat Nahi Hai
Qatil Si Nigahen Jo War Karen
Jheel Ankho Se Mujhe Muhabbat Nahi Hai
Wo Ashaar Jo Mujh Par Jadu Karen
Tere Jumlon Se Mujhe Muhabbat Nahi Hai
Mere Balon Se Phislen Chehra Thapthapaen
Makhruti Unglion Se Mujhe Muhabbat Nahi Hai
Par Kese Samjhaon Mei Tum Ko Ye Bat
Ke Ye Jhut Hai Ke Mujhe Muhabbat Nahi Hai
Hamari Nazar Se Dekho Tum Khud Ko
To Mano Ge Ke Khud Hi Ko Muhabbat Nahi Hai
Ham Tujh Se Muhabbat To Karte Bohat Hain
Bayan Ho Paye Jo Aisi Muhabbat Nahi Hai
Jo Dekhen Teri Ankhen Us Se Muhabbat Hai
Sirf Teri Ankhen Pasand Hon Aisi Muhabbat Nahi Hai
Jo Phul Tujhe Chu Jaen Un Se Muhabbat Hai
Sirf Tera Jism Mehwar Ho Aisi Muhabbat Nahi Hai
Jo Dekh Kar Muskurao Us Se Muhabbat Hai
Sirf Galon Ke Bhanwar Pasand Hon Aisi Muhabbat Nahi Hai
Tera Khayal Jahan Tak Jae Wahan Tak Muhabbat Hai
Sirf Teri Yad Markaz Ho Aisi Muhabbat Nahi Hai
Teri Jan Teri Ruh Se Ishq Hai Mujhko
Sirf Jism Tak Mehdud Ho Aisi Muhabbat Nahi Hai
Mei Har Pal Jis Ke Nam Pe Marta Hun Sameer
Mei Ye Kese Keh Dun Mujhey Us Se Muhabbat Nahi Hai?
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






