Meri Zindagi To Firaaq Hai

Poet: Syed Naseer-Uddin Naseer By: Hussam-Uddin Lakhvi, Karachi

Meri Zindagi To Firaaq Hai, Wo Azal Se Dil Main Makeen Sahi
Wo Nigaah-E-Shauq Se Door Hain, Rag-E-Jaan Se Laakh Qareen Sahi

Hamain Jaan Deni Hai Aik Din, Wo Kisi Tarah Wo Kaheen Sahi
Hamain Aap Khainchiye Daar Par, Jo Nahin Koi To Hameen Sahi

Sar-E-Toor Ho, Sar-E-Hashr Ho, Hamain Intezaar Qabool Hai
Wo Kabhi Milen,Wo Kahin Milen,Wo Kabhi Sahi, Wo Kaheen Sahi

Na Ho Un Pe Kuchh Mera Bass Nahin, Ke Ye Aashqi Hai Hawas Nahin
Main Unhi Ka Tha, Main Unhi Ka Hun, Wo Mere Nahin, To Nahin Sahi

Mujhe Bhaithne Ki Jagah Milay, Meri Aarzoo Ka Bharam Rahay
Teri Anjuman Men Agar Nahin, Teri Anjuman Ke Qareen Sahi

Tera Dar To Hum Ko Na Mil Saka, Teri Rahguzar Ki Zameen Sahi
Hamain Sajda Karne Se Kaam Hai, Jo Wahan Nahin To Yaheen Sahi

Meri Zindagi Ka Naseeb Hai, Nahin Door Mujh Se Qareeb Hai
Mujhe Uska Gham To Naseeb Hai, Wo Agar Nahin To Naheen Sahi

Jo Ho Faislaa Woh Sunaaiye, Use Hashr Par Na Uthaaiye
Jo Karainge Aap Sitam Wahan, Wo Abhi Sahi, Wo Yaheen Sahi

Unhen Dekhne Ki Jo Lou Lagi, To 'Naseer' Dekh Hi Lainge Hum
Wo Hazaar Aankh Se Door Hon, Wo Hazaar Pardah Nasheen Sahi
 

Rate it:
Views: 16804
08 May, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL