Chalna Tum ko

Poet: Adil Shahzad By: Adil, haripur

Pyas Ke Aalam Mein Kya Bolun Mujh Ko Kaisa Lagta Hai
Ek Qatra Bhi Is Dum Adil Dariya Jaisa Lagta Hai

Sookhe Paton Ki Aahat Ab Bhi Mujh Ko Chonkati Hai
Yaad Hai Mujh Ko Un Per Chalna Tum Ko Acha Lagta Hai

Mein To Apne Aap Ko Aksar Ye Samjhata Rehta Hon
Tu Sab Kuch Hai Phir Bhi Akhir Tu Mera Kya Lagta Hai

Itni Mudat Se Aankhon Mein Khwab Nahin Utra Koi
Ke Ab Sapna Bhi Dekhoon To Mujh Ko Sapna Lagta Hai

Tum Kya Mere Pyar Ki Shiddat Paimano Se Naapo Ge
Pyar Mein Jitna Bhi Karta Hoon Mujh Ko Thora Lagta Hai

Honton Ki Muskaan Se Tu Ne Dard Chupaya Hai Lekin
Aankhon Ki Surkhi Se Tu Bhi Dil Se Roya Lagta Hai

Apni Ankhon Mein Khwabon Ke Loag Sajaye Bethay Hain
Khwabon Ka Sodagar Phir Se Shehar Mein Aya Lagta Hai

Dil Ke Behlane Ko Sab Se Kehta Hoon Tanha Khush Hoon
Sach Poocho To Tanha Rehna Kis Ko Acha Lagta Hai

Palkon Ki Barhon Pe Jo Tum Ashk Sajaye Bethe Ho
Dil Mein Yaadon Ka Phir Koi Jhonka Aya Lagta Hai

Jaise Bheer Mein Bacha Koi Gum Ho Jata Hai Adil
Tum Jab Saath Nahin Hote Ho Mujh Ko Aesa Lagta Hai

Rate it:
Views: 925
07 Jan, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL