Buray Haen Jin Ke Naseeb Unka Bura Karo Gay,To Kia Karo Gay?
Poet: Saleem Sarmad By: Saleem Sarmad, DG KHANFaqeer Logoon Se Yoon Adawat Kia Karo GayTo Kia Karo Gay?
Buray Hen Jin Ke Naseeb Unka Bura Karo GayTo Kia Karo Gay?
Jo Berukhi Se Bhi Haath Ham Se Mila Na Pao To Kia Ho Jae?
Tapaak Se Bhi Galay Hamaray Mila Karo GayTo Kia Karo Gay?
Hamari Ankhen Abhi Talak Bhi Tumharay Jalwon Pe Mehraban Hen
Chupa Ke Chehra Bacha Ke Nazren Chala Karo GayTo Kia Karo Gay?
Zah-E-Muqaddar Keh Hiddatoon Ke Hi Maosmoun Men Bichar Gae Ham
Ke Sardiyoon Men Jo Shaal Suwieter Buna Karo GayTo Kia Karo Gay?
Nahen Hen Darkaar Mujh Ko Tum Se Koi Bhi Waaday Koi Bhi Qasmen
Yehi Keh Mujh Se Jafa Karo Gay Jafa Karo GayTo Kaia Karo Gay?
Khafa Se Lehjoon Men Ham Se Jaana Shikayatan Hi Bura Bhala Kuch
Kaha Karo Gay To Kia Karo GaySuna Karo GayTo Kia Karo Gay?
Bina Hamaray TumhariTairas Pe Chaand Raaten Katen Gi Kese?
Jo Eid Ke Din Hamari Khatir Dua Karo GayTo Kia Karo Gay?
Hamari Ankhoon Ki Surkh Shabnam Tumhen Nazar Hi Na Aai Shayad
Keh Khoon Alooda Jo Khat Hamare Parha Karo GayTo Kia Karo Gay?
Suna Hae Tum Bhi Keh Jaan Se Ziyada Aziz Rakhtay Ho Apne Dil Ko
Kabhi Jo Khud Men Hamen Se "Sarmad" Mila Karo GayTo Kia Karo Gay?
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔







