گرہ لگانا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیااب چھوڑ بھی دو آپ یہ نفرت کی سواری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
دنیا سے جفاؤں کی یہ دیوار گرا کر
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
ہم کو تو بغاوت کے بہانے نہیں آتے
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کچھ آپ بھی پڑھ لو نہ محبت کی کتابیں
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
یہ فرض ہے اب آپ بھی نفرت کو بھلا دو
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کھاتے ہیں سبھی مل کے محبت کی سپاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کہنے کو بنا پھرتا ہے الفت کا پجاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
ہو جائے گی اب دور جو نفرت ہے تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کچھ لوگ محبت میں بھی کرتے ہیں غداری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
بجھ جائے گی اب آگ جو سلگی ہے تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
سینچی ہے سدا خون سے یہ راہ تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا






