" کیا فرق پڑتا ہے "
Poet: ارسلان حُسینؔ By: Arsalan Hussain, Karachiکسی کو جیتو یہ ہارو، کیا فرق پڑتا ہے
چاہے جی بھر کے اُجاڑو، کیا فرق پڑتا ہے
عَکس نمایا نہیں ہو گا کبھی اندھیروں میں
آئینہ جتنا بھی نِکھارو، کیا فرق پڑتا ہے
جاَبجہ آنکھوں سے جَھلکنے لگے اُداسی جب
چہرہ جتنا بھی سنوارو، کیا فرق پڑتا ہے
دل کی فطرت ہے محبت میں مبتلا ہونا
اسکو جتنا بھی سدھارو، کیا فرق پڑتا ہے
جو ہوں منکر وفاؤں کے ہر حوالے سے
ان پہ جی جان بھی وارو، کیا فرق پڑتا ہے
تم ملے ہو اگر یونہی بچھڑنے کیلئے
تو کچھ پَل ساتھ گزارو، کیا فرق پڑتا ہے
ڈھل ہی جائیگا تصور کا رنگ بھی آخر
کسی کو جتنا بھی نِہارو، کیا فرق پڑتا ہے
جو وقت و حالات کی گردش میں کہیِں کہو جائیں
انکو جتنا بھی پکارو، کیا فرق پڑتا ہے
لُٹ گیا ہوں میں سرِ عام سب کے سامنے مگر
دیکھتے جاؤ اے پیاروں، کیا فرق پڑتا ہے
جڑے رہنا ہے سمندر سے اگر ساحل بن کر
تو ڈوب جاؤ اے کناروں، کیا فرق پڑتا ہے
لہو میں شامل ہے آدھورے تعلق کا زہر
اب زندگی جیسے بھی گزارو، کیا فرق پڑتا ہے
اپنی خواہش کا جو خود ہی قاتل ہو حُسینؔ
اسکو مقتل میں اُتارو، کیا فرق پڑتا ہے
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






