جو کچھ بھی تھا اس کے پاس یہاں چھوڑ گئی
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinجو کچھ بھی تھا اس کے پاس یہاں چھوڑ گئی
جاتے جاتے بھی وہ ایک اور احساں چھوڑ گئی
کیا خبر تھی کے اسے تاریکیاں کرینگی رخصت
سیاہیِ لیل میں وہ اپنے کئی ارماں چھوڑ گئی
کہاں ہے کیسی ہے کس کے ساتھ ہے وہ اب
غضب ستاتے ہیں کچھ آج کل گماں چھوڑ گئی
مجھے اب اس گھر میں کچھ صاف نظر نہیں آتا
ایک آگ تھی جو ساتھ لے کے دھواں چھوڑ گئی
احساسِ شفقت و غیرتِ نفس کے درمیان وہ
کر کے مجھے پشیماں و پریشاں چھوڑ گئی
ترس گئے گوش و چشم رو و گفتار کو تیرے اب
تو کتنی اذیتوں میں ڈھلا ایک انساں چھوڑ گئی
یہ رونق یوںہی مختصر رونق تھی اس گھر کی
جو گھر تھا ہی ویران اسے ویراں چھوڑ گئی
وہ وسعت نہیں کے یہ چیزیں اب تو سمیٹ لوں
بکھری ہیں وہاں چیزیں وہ جہاں چھوڑ گئی
کچھ تو ویسے ہی زمانے کے گھاو تھے گہرے
کچھ تو کر کے بےحال وہ مہرباں چھوڑ گئی
کب اس کے بچھڑنے کو سودا نے کیا تھا تسلیم
خیال و خواب و وقارِ وہم حیراں چھوڑ گئی
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






