“اب آئے موت ہی ، آنا نہیں جو اُس نے ریاض ۔۔۔“
Poet: Dr. Riaz Ahmed By: Dr. Riaz Ahmed, Karachi.شمع کے بہنے پہ، اشکوں کا گماں ہوتا ہے
مجھے اشکوں پہ موتیوں کا گماں ہوتا ہے
کوئی کہتا ہے کہ برسات کی وجہ ہے گھٹا
مجھے محبوب کی زلفوں کا گماں ہوتا ہے
گھنی گھٹا ، چلی ہوا ، زمین کی خوشبو
مجھے حالات پہ، سپنوں کا گماں ہوتا ہے
سریلے جھرنوں کی پہاڑوں پہ، مدھر آواز
اُس کے ، میرے لئے، گیتوں کا گماں ہوتا ہے
کہیں مستی میں، کوئی مور جو پھیلا لے پنکھ
اُن پہ محبوب کی پلکوں کا گماں ہوتا ہے
بدل گیا ہے کیوں طوفان میں ، بھیگا موسم
کوئی شرارت ہے، اپنوں کا گماں ہوتا ہے
اُس سے جدا ہوئے چند لمحے ہی گزرے ہوں گے
بچھڑے لمحوں پہ کیوں ، صدیوں کا گماں ہوتا ہے
شبِ تنہائی ، انتظار اور پتوں پہ ہوا
مجھے کیوں، اُس کے ہی قدموں کا گماں ہوتا ہے
اُس کی آنکھوں سے چھلکتے ہوئے اشکوں پہ مجھے
کبھی رِم جھِم ، کبھی ندیوں کا گماں ہوتا ہے
کوئی خوشی نہیں ہے زندگی میں ، خدشوں سے
ابھی آنے ہیں جو ، لمحوں کا گماں ہوتا ہے
اب آئے موت ہی ، آنا نہیں جو اُس نے ریاض
ہر اِک آہٹ پہ ، فرشتوں کا گماں ہوتا ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






