ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﮨـﮯ؟؟
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﮨـﮯ؟؟
ﮐﻞ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺰﺭﮒ
ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮯ
ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﮨـﮯ؟؟
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ
ﺗﺸﺮﯾﺢ ﮐﺮﻭﮞ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺠﮫ
ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﺩﺑﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻰ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﺎﮞ
ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ؟
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺤﺒﺖ
ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ، ﮐﯿﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ
ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﮨﻮ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﮬﯿﻤﮯ ﺳﮯ ﻟﮩﺠﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﮏ
ﻧﺸﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻋﺎﺷﻖ ﮐﮯ ﮨﻮﺵ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ
ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﻻﺯﻭﺍﻝ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻣﻘﺮﺭ
ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻮﺗﯽ..
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ
ﮐﯽ ﺷﻔﺎﺀ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ
ﺩﯾﺪﺍﺭ ﯾﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺗﻮ
ﺭﺍﮦ ﺟﻨﺖ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ
ﺷﻔﻘﺖ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﮔﺮ ﺑﮩﻦ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺗﻮ
ﺳﭽﺎ ﭘﯿﺎﺭ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﮔﺮ ﺷﺮﯾﮏ ﺣﯿﺎﺕ ﺳﮯ
ﮨﻮ ﺗﻮ ﺭﺍﺣﺖ...
ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮩﻨﮯ
ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ
ﻭ ﮐﺎﻣﺮﺍﻧﯽ۔
ﺗﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﮔﺮ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺁﺝ ﺳﮯ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ
ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻧﻈﺮ ﺩﻭﮌﺍﺅ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ
ﮐﺮﻭ ﻭﮦ ﺭﺍﺕ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ
ﺷﺨﺺ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ
ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺳﻨﺎﭨﺎ ﺍﻭﺭ
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ
ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﮔﮍﮔﮍﺍ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ
ﮨﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ '' ﯾﺎ
ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ
ﺩﮮ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ
ﺑﺨﺶ ﺩﮮ''
ﺭﻭﺡ ﺗﮍﭖ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻥ
ﮐﺎﻧﭗ ﮔﯿﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ
ﺟﮭﻨﺠﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮨﻮ ﺩﯾﮑﮫ
ﻧﺎﺩﺍﻥ.....
ﯾﮧ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






