یہ جو آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے

Poet: ندؔیم مراد By: NADEEM MURAD, Pietermaritzburg

یہ جو آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے
عاشقی میں کوئی کمی سی ہے

میری تنہائیوں کا ذکر ہی کیا
میری محفل بھی ماتمی سی ہے

شعلہ زن تھے کبھی، وہی جذبے
برف کچھ ان پہ اب جمی سی ہے

ایک دھوکہ ہے زندگانی بھی
آگ سی ہے کہ شبنمی سی ہے

کہتے ہیں چھپ چھپا کے کرنی ہے
میری نیکی بھی مجرمی سی ہے

اس میں دکھ سکھ ہیں، جینا مرنا ہے
زندگی جیسے موسمی سی ہے

اُسکا لہجہ طلسمِ ہوش رُبا
اس پہ پوشاک ریشمی سی ہے

ٹھہرو ٹھہرو ابھی نہ پوچھے کوئی
بات تھوڑی ابھی جمی سی ہے

سمجھے تھے عشق ہی خطائیں کرے
وہ پری رُخ بھی آدمی سی ہے

کیا ہوا ہے ندیم کیوں چپ ہو
چشم کیوں تر ہے کیا غمی سی ہے



 

Rate it:
Views: 1530
05 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL