آج فرصت ہے تو آنکھوں میں نمی آئی

Poet: ندؔیم مراد By: NADEEM MURAD, Pietermaritzburg

درد بھی دِکھتا ہے خوشبو بھی نظر آتی ہے
دل میں ہو جزبہ تو یہ مٹی بھی نغماتی ہے

مسکراتا ہے ہر اک غنچہ و گل، ہوں جو خفا
ہولے ہولے سے صبا بھی مجھے بہلاتی ہے

مل ہی جاتی ہے شہنشاہی بھی بیٹھے بیٹھے
کام دنیا کا ہر اک گرچہ مہمّاتی ہے

یاد رہتا نہیں غم ہائے غریب الوطنی
کُونج جب اڑتے ہوئے زور سے کُرلاتی ہے

یاد آتے ہیں مجھے دیس کے ساون بھادوں
بدلی پردیس کی تو آگ ہی برساتی ہے

زندگی سعئی مسلسل کا ہے اک دوسرا نام
نام میں رکھا ہے کیا، عمر تو ڈھل جاتی ہے

یہ لب و لہجہ، یہ اندازِبیاں اور یہ خیال
سچ کہوں! گر نہ برا مانو، روایاتی ہے

آج فرصت ہے توآنکھوں میں نمی آئی
کب طبیعت تری ہر روز ہی غزلاتی ہے
 

Rate it:
Views: 1130
04 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL