ہم جنوں، ہوش کے رہے ہی نہیں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالہم جنوں، ہوش کے رہے ہی نہیں
نا ہی سوئے ہیں، جاگتے ہی نہیں
کچھ خلا وہ بھی تھے وجود اندر
جو کسی سینے سے بھرے ہی نہیں
تنگیِ پہلو میں کمی نہ ہوئی
ہے ندامت کہ ہم مرے ہی نہیں
ہم مکین اُس گلی کے تھے جس میں
مدتوں رہ کے بھی رہے ہی نہیں
آگ سے کچھ فراق لمحوں میں
ہم جلے ہی نہیں سڑے ہی نہیں
ہوئی ذلّت اُس آستاں پہ مگر
ہم پڑے ہی رہے اُٹھے ہی نہیں
زندگانی تھی آتشِ نمرود
ہم جلے سڑ گئے، بُجھے ہی نہیں
میری دوزخ سی گرم آنکھوں میں
خواب کس کے تھے جو گلے ہی نہیں
ہم فقیر اُس سخی کے تھے جس نے
ہم کو ٹالا بہت ٹلے ہی نہیں
تجھ تک آئے تمام قدموں میں
کچھ قدم چاہے بھی اٹھے ہی نہیں
تیرے مجنوں سُدھر گئے ہیں کیا؟
گُم ہیں اور سر بھی پھوڑتے ہی نہیں
ہر ستم کا حساب کر کے سوچ
کیا ہوئے وہ کے جو کیے ہی نہیں
تھے تقاضے کچھ اُن جوابوں کے
جو سوال لب سے بھی ہوئے ہی نہیں
جِن میں خوں کی لکیر کھینچی گئی
پل وہ لوح و قلم پے تھے ہی نہیں
جو خراش انتہاء کی سہہ سکتے
سینے وہ ہجر میں ملے ہی نہیں
ہم اُجڑنے کا عہد کر بیٹھے
کوششیں سب نے کیں، بسے ہی نہیں
خوں سے لکّھے مرے مقدر میں
ایسے غم بھی تھے جو سہے ہی نہیں
میرے تیشے سے نہرِ خُوں نکلی
یہ تو فرہاد جانتے ہی نہیں
اُن دِوانوں کو بھی کریں تسلیم
جنہیں پتّھر کبھی لگے ہی نہیں
یوں تو کتنے ہی دوست تھے میرے
پر وہ ایسے تھے جیسے تھے ہی نہیں
جیتے جی ایسا ہم کو مارا گیا
موت بھی تھک گئی مرے ہی نہیں
کس طرح ایک ہو سکیں کہ کبھی
آسمان و زمیں ملے ہی نہیں
کاش ہوتے تُم اُس زمانے میں
جب میّسر نقاب تھے ہی نہیں
یاراں ہم عشق کے سمندر میں
ایسے ڈوبے نکل سکے ہی نہیں
تیری بانہوں میں ایسی نیند آئی
حشر تک سو گئے اُٹھے ہی نہیں
جانے ماضی نے کیا کیا اُن کا
جن کو بھولے سے سوچتے ہی نہیں
شکر کر تجھ کو کر دیا آزاد
ہم کسی کو یُوں چھوڑتے ہی نہیں
میری تو خیر ہے خفا ہوں میں
تم بتاؤ کیوں بولتے ہی نہیں
کون سے عہد؟ کیا وفا؟ کیا عشق؟
ہم تو اِک دُوسرے کے تھے ہی نہیں
زندگانی کے گُھپ اندھیروں میں
دپپ اُمید کے جلے ہی نہیں
وہ ہماری خطا تھی چاہ بیٹھے
ورنہ لائق تم اِس کے تھے ہی نہیں
آپ اپنا اُدھار دے دے مجھے
واپسی میں کبھی بھی لے ہی نہیں
کیسی حیرت میں گُم ہیں سارے لوگ
ظلم سہہ کر بھی چیختے ہی نہیں
جاں ترے آستاں سے جو بھی پِھرے
ہیں بھی یا مر گئے دکھے ہی نہیں
اِس طرح قیس رستے روند گیا
دشت میں نقش تک بچے ہی نہیں
جانے سب کو کیا ہو گیا ہے جنیدؔ
اب مجھے لوگ ٹوکتے ہی نہیں
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو







