کبھی اقرار کرتا ہے ، کبھی انکار کرتا ہے
Poet: Khalid Roomi By: KHALID ROOMI, Rawalpindi کبھی اقرار کرتا ہے ، کبھی انکار کرتا ہے
ہمارا جینا دنیا میں وہ یوں دشوار کرتا ہے
بپا وہ فتنہ ء محشر جمال یار کرتا ہے
کوئی مجنوں پھر اب نالہ پس دیوار کرتا ہے
عیاں دنیا میں اپنی خوبیء کردار کرتا ہے
محبت کا کسی سے جو کوئی اظہار کرتا ہے
صعوبت کے وہ دریا کو خوشی سے پار کرتا ہے
اسے راحت نہیں ہوتی جو آنکھیں چار کرتا ہے
علاج اس کا مسیحا سے کسی صورت نہیں ممکن
جسے بیمار تیرا دیدہ ء ہشیار کرتا ہے
سلوک ایسا کیا تم نے ہمارے ساتھ الفت میں
حیا والا وہ کرتا ہے نہ با کردار کرتا ہے
وفا تو مانگتی ہے جانثاری کربلا کی سی
سر منبر تو اے واعظ ! عبث گفتار کرتا ہے
تری شوخی میں پنہاں ہے یقینا پھر نیا فتنہ
کوئی تو بات ہے کیوں اس قدر اصرار کرتا ہے
جسے فرہاد کی اور قیس کی سیرت ہو ازبر، وہ
محبت کے چمن کو خون سے گلزار کرتا ہے
شب غم آہ اٹھتی ہے عجب ہر اک بن مو سے
نکلتا ہے جو دم فریاد کی تکرار کرتا ہے
بھروسے کے نہیں لائق کبھی وہ شخص دنیا میں
کمینہ ہے وہ دشمن جو کہ چھپ کے وار کرتا ہے
خدا کی رحمتیں رومی ! مقدر اس کا بنتی ہیں
ندامت سے اگر گریہ کو ئی بدکار کرتا ہے
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






