نہ میں حسن ہوں نہ جمال ہوں
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreنہ میں مال ہوں نہ منال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
نہ میں حُسن ہوں نہ جمال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
نہ یہ ہجر ہے نہ وصال ہے
بس تیرا حسنِ خیال ہے
نہ تہی ہوں میں نہ نہال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
تُو نے درد میرا سنا نہیں
میرا نالہ کوئی رسا نہیں
کیا میں مثلِ آہِ غزال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
اب تو میکدے میں بھی ساقیا
مجھے کوئی بھی نہیں پوچھتا
میں شکستہ جامِ سفّال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
نہ کسی کا مجھ پہ عتاب ہے
نہ ہی کوئی وجہءِ عذاب ہے
اپنی جاں پہ خود ہی وبال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
وہ جو دل میں ہے تیری آرزو
مجھے اپنی جاں سے عزیز ہے
نہ میں رنج ہوں نہ ملال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
وہ جو تیرے دل میں خلش سی ہے
ہے دلیل میرے وجود کی
نہ خواب ہوں نہ خیال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
میں تو ایک لمحہ ہوں جانِ جاں
جو تیرے سبب سےٹھہر گیا
ورنہ ایک گزرا خیال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
میں کہ ایک قطرہءِ اوس ہوں
میری برگِ گل پہ ہے زندگی
میں کہ آئینہءِ جمال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
میں تو سُوزِ دل ہوں اے جانِ من
میری روشنی ہے زمن زمن
میں بھی آپ اپنی مثال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
وہ جو میرے دل میں پیار ہے
وہی تیرے دل پہ غُبار ہے
گویامیں ہی گردِ ملال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
تیری زلف کے ہیں جو پیچ و خَم
کہیں بڑھ کے اُن سےہیں میرے غم
میں بھی ایک اَمرِ محال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
میرے دم سے تیرا وقار ہے
تیرے دم سے مجھ کو قرار ہے
تیرے سُر پہ میں ہی تو تال ہوں
کبھی میرےبارے میں سوچنا
جب سے ہم ملیں ہیں اے مہرباں
تیرا رنگ و رُوپ نکھر گیا
تب سے میں بھی روبہ کمال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
تُو سراپا حسنُ و جمال ہے
تیرا حسن بھی با کمال ہے
میں بھی عشق میں لازوال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
میری شاعری میرافلسفہ
یہ تو فیض ہے تیرے عشق کا
میں تو عکسِ نور ِ جمال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
مجھے تُوسمجھتا ہے جاں بلب
میری نبضیں گنتا ہےروزوشب
میں توتیرےغم میں نڈھال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
تیرے دستِ فیض نے ساقیا
بے طلب بھی کی ہیں سخاوتیں
میں تو اِک سراپا سوال ہوں
کبھی میرے بارے میں سوچنا
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






