نا مکمل
Poet: ایم آر چشتی By: غزل حیات, Bihar, Indiaاب مرے دن بھی نکھرے نکھرے ہیں
میرے راتیں بھی اب اداس نہیں
بھیڑ میں کھو گیا ہوں غیروں کی
کیا ہوا تو جو میرے پاس نہیں
چاندنی راس آرہی ہے مجھے
پھول بھی خوب مجھ پہ سجتے ہیں
تو جسے نا پسند کرتی تھی
اب وہ کپڑے بھی مجھ پہ جچتے ہیں
دور ہوں اب پرانی فلموں سے
اب نئ فلموں سے محبت ہے
نئے گانے پسند ہیں مجھ کو
اب کچھ ایسی ہی میری عادت ہے
ڈائری میں بڑی محبت سے
تو نے جو اپنا نام لکھا تھا
آج وہ صفحہ میں نے پھار دیا
جس پہ تونے پیام لکھا تھا
نہ ضرورت رہی مجھے تیری
نہ کبھی تیرا نام لیتا ہوں
نہ میں کرتا ہوں ذکر اب تیرا
نہ محبت کا جام لیتا ہوں
جاگنا اب نہیں رہی عادت
اب تو راحت کی نیند آتی ہے
نیند آتے ہی میرے خوابوں میں
اب کوئی اور مسکراتی ہے
کوئی رشتہ نہیں رہا تجھ سے
نہ مجھے اب تری ضرورت ہے
رشک آتا ہے زندگانی پر
مجھ کو حاصل بہار جنت ہے
یاد ہے تجھ کو وہ حسیں صورت
جس کی آنکھیں پسند تھیں مجھ کو
میں نے اک بار کہ دیا تھا تجھے
یاد ہے؟ کیا ہوا تھا پھر تجھ کو
میرے دل کی مکین ہے اب وہ
بس وہی اب مری ضرورت ہے
اس کی بانہوں میں مجھ کو جینا ہے
وہ مری آخری محبت ہے
فیس بک پہ جو پوسٹ کرتا ہوں
تبصرہ وہ ضرور کرتی ہے
وہاٹس اپ پہ "وفا" کے نام سے وہ
ہر گھڑی آنلائن رہتی ہے
اس کی تصویر میری آنکھوں میں
رنگ بن بن کے جھلملاتی ہے
"کیا غضب ہے کہ اب تری صورت
یاد کرنے پہ یاد آتی ہے "
خوب ہنستا ہوں گنگناتا ہوں
دیکھ کتنا بدل گیا ہوں میں
تجھ سے کھو کر نئ محبت کے
کیسے سانچے میں ڈھل گیا ہوں میں
________________________
یاد ہے تجھ کو ایک دن تو نے
یہ کہا تھا کہ "تم تو ساحر ہو
جھوٹ کو سچ بنایا کرتے ہو
لفظوں کو جوڑنے میں ماہر ہو"
لو تجھے سچی بات کہتا ہوں
مجھ کو دیکھو میں کتنا ٹوٹا ہوں
تجھ کو کھوکر مجھے سکون کہاں
واقعی میں بہت ہی جھوٹا ہوں
باغ ہستی کی صرف تو ہے بہار
تیرے ملنے سے ہی میں پورا ہوں
جب سے تو دور ہے خدا کی قسم
ایسا لگتا ہے میں ادھورا ہوں
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






