محبت
Poet: AS By: Azeem, Kamaliaمحبت انا نہیں ہوتی
محبت جھگڑا نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت سجدہ ہوتی ہے
محبت حساب نہیں ہوتی
محبت کتاب نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت بے نیاز ہوتی ہے
محبت حزن نہیں ہوتی
محبت ملال نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت توکل ہوتی ہے
محبت حبس نہیں ہوتی
محبت موسم نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت ابد ہوتی ہے
محبّت شکایت نہیں ہوتی
محبّت عادت نہیں ہوتی
محبّت ہونے پہ آئے تو
محبّت فطرت ہوتی ہے
محبّت بدگمان نہیں ہوتی
محبّت پریشان نہیں ہوتی
محبّت ہونے پہ آئے تو
محبّت دھیان ہوتی ہے
محبت تنہا نہیں ہوتی
محبت شکستہ نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت فتح ہوتی ہے
محبت نحیف نہیں ہوتی
محبت ناتواں نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت طاقت ہوتی ہے
محبت غافل نہیں ہوتی
محبت کاہل نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت جاوداں ہوتی ہے
محبت مردہ نہیں ہوتی
محبت افسردہ نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت شہید ہوتی ہے
محبت فنا نہیں ہوتی
محبت بقا نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت محبوب ہوتی ہے
محبت بحث نہیں ہوتی
محبت ضد نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت رضا بہ قضا ہوتی ہے
محبت تھکن نہیں ہوتی
محبت پژمردہ نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت حرارت جان ہوتی ہے
محبت فتنہ نہیں ہوتی
محبت فساد نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت آداب ہوتی ہے
محبت ہوس نہیں ہوتی
محبت عریاں نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت لباس ہوتی ہے
محبت رنجش نہیں ہوتی
محبت سازش نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت آخرش ہوتی ہے
محبت تکلیف نہیں ہوتی
محبت ازیت نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت راحت ہوتی ہے
محبت سزا نہیں ہوتی
محبت دغا نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت وفا ہوتی ہے
محبت آنسو نہیں ہوتی
محبّت مسکان نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت شکر ہوتی ہے
محبت قابض نہیں ہوتی
محبت بد دعا نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت دعا ہوتی ہے
محبت جادو نہیں ہوتی
محبت شعبدہ نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت معجزہ ہوتی ہے
محبت کذب نہیں ہوتی
محبت کرب نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت حق ہوتی ہے
محبت شکوہ نہیں ہوتی
محبت آہ نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت صبر ہوتی ہے
محبت حاصل نہیں ہوتی
محبت لاحاصل نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت قناعت ہوتی ہے
محبت گمراہ نہیں ہوتی
محبت بےراہ نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت چراغ راہ ہوتی ہے
محبت میں نہیں ہوتی
محبت تم نہیں ہوتی
محبت ہونے پہ آئے تو
محبت 'محبت' ہوتی ہے
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






