مجھے یاد پھر سے وہ آنے لگے ہیں
Poet: عتیق مہدی By: عتیق مہدی, Bhakkarمجھے یاد پھر سے وہ آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
گرفتارِ اُلفت ہوں میں قید میں ہوں
وہ پھر سے تصور پہ چھانے لگے ہیں
کبھی جن کی آنکھوں کی تسکین میں تھا
وہی مجھُ سے آنکھیں چرُانے لگے ہیں
میں محرومِ دیدار ہوں مدُتوں سے
وہ میرا جگر آزمانے لگے ہیں
جو مجنوں وہاں سے نکالے گئے تھے
وہ پھر تیری گلیوں میں جانے لگے ہیں
بڑی مشکلوں سے بھلایا تھا جن کو
تصور میں آ کر ستانے لگے ہیں
کبھی جن کے سائے میں جیتے تھے ہم بھی
وہی دستِ شفقت اُٹھانے لگے ہیں
خوشی سے جدُا ہونے کی بات کی تھی
جو بچھڑے تو آنسو بہانے لگے ہیں
سبھی راز آنکھوں نے پل میں بتائے
جو ہم مدُتوں سے چھپانے لگے ہیں
سبھی جام ہاتھوں سے لیتے رہے ہیں
وہ آنکھوں سے مجھ کو پلانے لگے ہیں
وہی جن کی قربت مری زندگی ہے
مجھے چھوڑ کر دُور جانے لگے ہیں
کبھی جن کی دُنیا و عقبیٰ بھی میں تھا
وہی غیر سے دل لگانے لگے ہیں
عتیقؔ اِن دنوں میں وہ پردہ نشیں ہیں
وہ یوں میرا دل آزمانے لگے ہیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






