لوگ کہتے ھیں رب نے بنایا اس کو فرصت میں
Poet: اے ایس عارف By: اے ایس عارف, Mississaugaایک سپنے جیسی بات تھی اسکی میری صحبت میں
آنکھ ملانا مشکل تھا اک دوجے کی مروت میں
وہ کیسے انجان بنے وعدہ کر کے بھول گئے
ھم نے کیسے چھوڑ دیا اپنی ھی شرافت میں
انمول کہہ کر چھپاتے ھیں اپنے دل کی دولت کو
ایک غر یب کا گھر بس جائے اتنی سی قیمت میں
پاس بٹھایا دور بٹھایا نظروں سے کئی بار گرایا
کیا کیا منزل ھم نے دیکھی اپنی اس محبت میں
فخر سے کرتے رھتے ھیں چاند ستاروں سے باتیں
گواھ بنا کر بیٹھیں گے انہیں کو ان کی خلو ت میں
تجھ سے فرصت کہاں ملی کہ اپنے رب کو یاد کریں
بہت کوسیں گے تجھ کو اپنی آخری منزل تربت میں
تیری بے اعتنائی لے کر خود کی اپنی ھائے لے کر
پہلو میں تیر ے روئیں گے آخری لمہوں کی فرصت میں
ھو گا قابل ستائش ضرور ھو گا اس کے اپنے لئے
لوگ کہتے ھیں رب نے بنایا اس کو فرصت میں
اپنو ں کو نالاں کر کے دیس سے اپنے دور ھو ئے
دیکھیں گے اور کیا لکھا ھے اپنی بکھر ی قسمت میں
عارف خدا کے واسطے جو بیت گیا سو بیت گیا
شاید ھمارا نام لکھا ھو دنیا کی اور کسی نعمت میں
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






