سالگرہ

Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwala

میرے سالگرے میرے تہوار ہیں بے معنی سب ترے بن
کھلتے گلشن یہ پھول ، بہار ہیں بے معنی سب ترے بن

نہ دل میں حسرتِ شمس و قمر ، اگر ترے دل سے ہوئے بے گھر
یہ کوچے ، گلیاں سب دیار ہیں بے معنی سب ترے بن

گونگی ہے یہ زبان میری ، ہے ماتم جیسی مسکان میری
ملے خوشیاں ، ملے سارا سنسار ہیں بے معنی سب ترے بن

کواڑ کھلے ہوں جنت کے ، میں چھوڑ کے جنت پلٹ آؤں
جس جنت میں نہ ہو پیار ہیں بے معنی سب ترے بن

میرے دوست فرشتے بن جائیں ، میری خیر خیریت کو آئیں
پَریاں ہوں میری خدمت گار ہیں بے معنی سب ترے بن

پہاڑ گرا لوؤنگا خود پر ، میں سانسیں روک لوؤں جاؤں مر
تجھے کھو کے میں پاؤں قرار ہیں بے معنی سب ترے بن

اِک تجھ میں بستی ہیں خوشیاں ، اِک تجھ سے سجتی ہیں خوشیاں
نہالؔ ہیروں موتیوں کے ہار ہیں بے معنی سب ترے بن

Rate it:
Views: 517
22 Nov, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL