ساتھی میرے
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryساتھی میرے
آؤ ۔۔۔کچھ اور دیر میرا ساتھ نبھاؤ
ساحلِ زندگی پر چند قدم اور میرے سنگ ملاؤ
ہجر کی تیز ، سرخ آندھی چل پڑی ہے
اور میری ان یتیم و بے کس تنہایئوں میں
بیوہ ماں کی طرح بین کرتی، پاگل ہوائیں بولتی ہیں
میں ساکت و جامد کھڑی ہوئی
خاموش لب بھینچے تُجھے دیکھتی ہوں
اور۔۔۔۔ سوچتی ہوں
کاش!!! ایسا ہو
تُو پڑھ سکے میری سوچ کو
ہیں بچیں اب فقد چند مستعار سانسیں میری
نظر میں بھی ہیں کچھ عجب سی دھندلاہٹیں
ضرب پڑچکی ہے نقارہ کوچ پر
عزرائیل نے جکڑ رکھی ہیں میری یہ بانہیں
میں حد سے زیادہ مجبور ہوں
تم تو سمجھ جاؤ ان مجبوریوں کو
چلو اس بہتے وقت کو " امر" بناؤ
ساتھ میرے چند اور ساعتیں بتاؤ
آج پھر سنگ میرے تارے گنواؤ
ہے اب میرا سفر "مجاز" سے" حقیقی" کی جانب
ایک الوداعی بوسہ
میرے ماتھے پر ثبت کرو
مجھے اپنی اس "محبت" سے آزاد کرو
میری مٹھیوں میں ہیں بہت سی یادوں کے جگنو
کئی رنگ دار تتلیوں کے رنگ
مجھے ان تمام یادوں سے آزاد کرو
ایک بار مٹھی کھول کر مجھے اڑ جانے دو
ساتھی میرے
بس اتنا ہی تمھارا ہمارا ساتھ تھا
چلو اب تم واپس لوٹ جاؤ
ڈھلتے سورج کی نارنجی روشنی میں
میں بھی لوٹ جاتی ہوں
افق کے اس پار
دوبارہ ملنے کے لئے
ایک ventilator پر سانس لیتی لڑکی کی آخری خواہش ۔
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






