دشت ِ اُلفت میں وفاؤں کے سراب دیکھے
Poet: Ibn.e.raza By: Ibn.e.Raza, islmabadحادثے لاکھ سہے، دُکھ بے حساب دیکھے
دشت ِ اُلفت میں وفاؤں کے سراب دیکھے
کس طرح توڑا ہے مجھے شوق ِ جنوں نے
آ کر وہ کبھی میرے دل کی کتاب دیکھے
کس قدر پستی بھری ہے یہاں سوچوں میں
صبح ِنور میں بے نور ماہ و شہاب دیکھے
یہی سوچ کر زخموں کر ہرا رکھا ہے آج تک
وہ اپنے ظلم دیکھے، میرے اعصاب دیکھے
وہ لوگ جو محبت کا دم بھرتے تھے ہر لہذہ
جب بات وفاؤں کی چلی، لاجواب دیکھے
اُسے فرصت ملے اگر نور کے ہالوں سے
اُتر کر نیچے کبھی تیَرگی کے عذاب دیکھے
آزمائشوں سے کیا گلہ، دکھ تو یہ ہے کہ
تا عمر نا کردہ گناہوں کے ثواب دیکھے
یہ ابر ِساون تو کچھ بھی نہیں ہے وہ میری
بھیگی ہوئی آنکھوںسےرواں سیلاب دیکھے
ساحل پہ کھڑا ہو کر لہروں کو للکارنےوالا
اب کہ سمندر میں اُتر کر لطف ِگرداب دیکھے
جِن کا فکروسخن سے کوئی تعلق ہی نہیں
بزم ِسُخن میں ایسے کئی اصحاب دیکھے
میں رستوں کی سازش سمجھتاتوملتی منزل
زندگی میں ہر موڑ پہ نئے نئے باب دیکھے
خوں کی طرح میری نبض میں رواں ہے جو
اتُر کر دل میں،جذبوں کی آب و تاب دیکھے
حرف ِوفا کا تذکرہ بھی نہیں پایا ہے کہیں
اس عمر ِرواں میں جتنے بھی نصاب دیکھے
میں تو اُسی میں گم ہو کر، خودی بھول چُکا
اُس کو گلہ ہے اگر، تو میرے اِنتساب دیکھے
دل تو اُسکا بھی رضا لرز جائے اک بار اگر
سر ِمحفل میری آنکھوں کو پرُ آب دیکھے
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






