جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو
Poet: SABA KOMAL By: SABA KOMAL, KSAمیرے ھاتھوں کے کنگن کچھ بھی کہیں
تم میری سنو تم مجھ سے کہو
تم میرے لبوں کو مت دیکھو
آنکھوں میں میری مت جھانکو
بس میرے الفاظوں کو سن لو
جو میں نے کہا بس وہ ہی سنو
یہ کنگن تو روپ سجاتے ہیں
ھونٹ کیا سے کیا کہہ جاتے ہیں
آنکھیں بھی سپنے دکھاتی ہیں
ہر لمحے خواب جگاتی ہیں
بس میری باتوں پہ غور کرو
جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو
گجروں کی خوشبؤ محصور کرے
کاجل کی دھار مجبور کرے
زلفیں تجھ کو بے خود کر دیں
بس ان سب سے تم دور رھو
جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو
گجروں کی خشبؤ تو فانی ھے
کاجل میں رات طوفانی ھے
زلفوں میں شام سہانی ھے
ناں انکے ھاتھوں مجبور رھو
بس جو میں نے کہا تم وہی سنو
پائل بھی شور مچائے گی
بندیا بھی تجھے بلائے گی
چوڑی کی کھنک جلائے گی
ھر لمحے ان سے دور رھو
بس جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو
پائل کا کام تو بلانا ھے
بندیا نے بھی من کو جلانا ھے
چوڑی نے ٹوٹ ہی جانا ھے
ان سب کی ناں آواز سنو
بس جو میں نے کہا تم وہ ہی سنو
ھاں جو میں نے کہا بس وہ ہی سنو
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






