تو وہ گوہر ہے جو کیچڑ میں پڑا سوتا ہے
Poet: خلیلی قاسمی By: خلیلی قاسمی, Indiaتو وہ گوہر ہے جو کیچڑ میں پڑا سوتا ہے
جس کی قیمت نہیں دے سکتی ہے دنیا جاناں
تجھ سے قطروں کے لیے برسوں ترستی ہے صدف
پھر چمکتا ہے کہیں اس کا نصیبہ جاناں
کور نظروں کو حقیقت تری معلوم نہیں
سنگ ریزوں میں انھوں نے تجھے سمجھا جاناں
ایسے احساسِ شرافت سے خدا معاف رکھے
جس سے ہوتا ہو کوئی آدمی رسوا جاناں
جلد مل جائے گا حق یوسفِ کنعاں تجھ کو
پھر کریں گے وہ ترے قدموں پہ سجدہ جاناں
مجھ کو تیری ہی طلب ہے ، اے الہ دیں کا چراغ
نذر ہے اس کے لیے جان کا ہدیہ جاناں
اپنے شعروں سے بناؤں گا ترا تاج محل
اشک فرقت سے بہاؤں گا میں جمنا جاناں
بارِ غم، بارِ حیات اور ترا بارِ فراق
پھٹ نہ جائے یہ کہیں دل کا جوالہ جاناں
صبح سے شام تلک، شام سے پھر صبح تلک
بہتا رہتا ہے تری یاد کا دریا جاناں
مجھ میں فولاد کی سختی ہے، سمندر کا خروش
اتنا آسان نہیں میرا مکرنا جاناں
تیرے جلووں کی فراوانی سے عالم یہ ہے
ہر طرف مجھ کو نظر آتا ہے کعبہ جاناں
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






