تم کون ہو
Poet: UA By: UA, Lahoreتم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
اس دل نے یہ دل نے پکارا تھا
تم وہی ہو جس کیلئے دل دربدر آوارہ تھا
تمہارے سامنے آتے ہی
نظروں کو ملا نظارا تھا
تمہیں ملنے سے پہلے
آنکھوں میں عجب خمار تھا
آنکھوں کو کسی کا انتظار تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر بھی
نظر نے پکارا تھا
یہی وہ روپ سنہرا ہے
مدت سے دل میں جس کا بسیرا ہے
میرے دل کی بےترتیب دھڑکنوں میں
پنہاں اک خمار تھا کچھ سویا کچھ بیدار تھا
تم کون ہو کہ تمہیں دیکھ کر نظروں نے کہا
یہی ہے وہ کہ نظر کو جس کا انتظار تھا
آنکھوں میں لہراتے سایوں میں
چھپا بیٹھا جو شاہکار تھا
مضطرب نظر کی بے چینیوں میں
اسی تصویر کا عکس نمودار تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
اس بے چین روح کو قرار آیا
بھٹکتی روح نے سکوں پایا
تم کون ہو کہ جس کے زندگی میں آنے سے
زندگی نے تکمیل کا احساس پایا تھا
میری ذات کا ادھورا پن میری حیات کا ادھورا پن
جسے دیکھ کے شرمایا تھا
اس ادھورے سائے نے وجود پایا تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
دل میں یہ خیال آیا تھا
قدرت نے تمہیں میرے لئے
مجھے تمہارے لئے بنایا تھا
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو







