تجھے رستہ سمجھتے ہیں، تجھے منزل سمجھتے ہیں
Poet: خلیلی قاسمی By: خلیلی قاسمی, Indiaتجھے رستہ سمجھتے ہیں، تجھے منزل سمجھتے ہیں
تجھے ہم ابتدا و انتہائے دل سمجھتے ہیں
جہاں کچھ بھی کہے لیکن ہمارا فیصلہ یہ ہے
تجھے ہم ہر طرح سے عشق کے قابل سمجھتے ہیں
ہماری بے خودی پر عقل کو بے حد تعجب ہے
تجھے محبوب کہتے ہیں تجھے قاتل سمجھتے ہیں
حیات و موت تیری ذات میں محصور کہتے ہیں
تجھے ورطہ سمجھتے ہیں، تجھے ساحل سمجھتے ہیں
محبت جس میں نہ ہو اس کو ہم ویرانہ کہتے ہیں
محبت جس میں بستی ہو اسے ہم دل سمجھتے ہیں
وہ غیرت اور خودداری جو جھکنے سے ہمیں روکے
تمہارے راستے کا اس کو ہم حائل سمجھتے ہیں
نہ ہی عاشق سمجھتے ہیں، نہ ہی شیدا سمجھتے ہیں
ترے دروازے کا خود کو فقط سائل سمجھتے ہیں
گزرتے ہیں جو لمحے تیری یادِ پاک میں جانم
اسی کو زندگی کا اپنی ہم حاصل سمجھتے ہیں
ہماری ایک اک رگ میں تمہارے جلوے ہیں پیوست
ذہن کو گھر ترا سینہ ترا محمل سمجھتے ہیں
ہمیں احساسِ تنہائی ستائے یہ نہیں ممکن
تمہاری یاد کو ہم جلوہٴ محفل سمجھتے ہیں
مری وحیٴ محبت پر نہ ہو جس شخص کا ایماں
خلیلی# اس کو ہم تکفیر کے قابل سمجھتے ہیں
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






