بھرم ضبط کا توڑ جاتے ہیں آنسو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگبھرم ضبط کا توڑ جاتے ہیں آنسو
یونہی بیٹھے بیٹھے جو آتے ہیں آنسو
لبوں پہ مرے چپ کے تالے پڑے ہیں
مگر داستانیں سناتے ہیں آنسو
صدا ہجکیوں کی اگر دب بھی جاۓ
تو کہرام سا اک مچاتے ہیں آنسو
جو سوجن سے آنکھیں ہی کھلتی نہیں ہیں
کہاں سے سفر کر کے آتے ہیں آنسو
جو خونِ محبت ہوا برسوں پہلے
اسی کا تو ماتم مناتے ہیں آنسو
چمن چاہتوں کا مہکتا ہے اب بھی
کہ ہم روز اس کو پلاتے ہیں آنسو
فلک کانپ اٹھتا ہے سن لے اے ظالم
کہ معصوم جس دم بہاتے ہیں آنسو
یہ مٹی بناتی ہے بت ان کے دیپک
کہ ہم بس زمیں پہ گراتے ہیں آنسو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






