ذرا لب ہلا دے اگر تو ہے زندہ
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: آغا خالد, Raheem Yar Khanذرا لب ہلا دے اگر تو ہے زندہ
کوئی تو صدا دے اگر تو ہے زندہ
مکاں کس کا ہو گا زمیں کس کی ہو گی
یہ جھگڑا مِٹا دے اگر تو ہے زندہ
سب احباب بھوکے ہی بیٹھے ہوئے ہیں
کچھ ان کو کِھلا دے اگر تو ہے زندہ
کفن کالے صندوق میں ہی پڑا ہے
خود اٹھ کے بتا دے اگر تو ہے زندہ
تری سانس تھمنے کے سب منتظر ہیں
گلا خود دبا دے اگر تو ہے زندہ
خدا کے سوا تیرا کوئی نہیں ہے
منادی کرا دے اگر تو ہے زندہ
خدا تجھ کو اب موت دے دے مکمل
یہی اِک دعا دے اگر تو ہے زندہ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






