اے بارش شب جون آج برستی رہنا
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTاے بارش شب جون آج برستی رہنا
تصور محبوب کی کھلی کلیوں پر
بوند بوند گرتی رہنا
میرے انتہائے شوق نے میری دھڑکنوں کو ہلا دیا ہے آج
میرے تصور نے مجھے تصور صنم سے جو ملا دیا ہے آج
یہ تصور ابھرا ہے بارش کی روانی سے
یہ جو نیند میں ہلچل ہے مچی
اس کا ناتہ ہے ہماری چاہت کی کہانی سے
اے بارش شب جون ذرا پانی سے
میرے محبوب کی پلکوں کو نہلانا
اسکی زلف چمکدار کو
شبنم کے جیسے قطرے گرا کر چمکانا
اسکے چودھویں کے چاند جیسے حسین گول چہرے کا
پیاری نظارہ کرنا شادمانی سے
اے بارش شب جون تو مسکراہٹوں کا نذرانہ لے جا
اپنے دامن میں بھر کے
میرے محبوب میرے یار کی خاطر
کہ ہنسی اسکے مکھڑے پر
میرے موسم دل کو تازگی دیتی ہے
میری سوچ و فکر کو زندگی دیتی ہے
اے بارش شب جون خیال رکھنا
میرا صنم بہت نازک مزاج ہے پیاری
اسکے رخساروں کو آہستگی سے چھونا
اسکی پیشانی کو آہستگی سے چومنا
اسکی سانسوں کو پھولوں کی طرح محسوس کرنا
اے بارش شب جون اپنی نغمگی کا سکوں دینا اسے
ہلکی ہلکی دھیمی دھیمی سرسراہٹ سے
نغمات کی دھن سنانا اسے
اے بارش شب جون اپنے پیروں کی آہٹ سے
میری چاہت کی اسکے دل پہ دستک دینا
اور اسے یہ پیغام مضطرب دینا
کہ کبھی ہمیں بھی آملے چاہت سے مسکراہٹ سے
اسے میرے جذبات کی دھنک دینا
اسے میری وفا میرے عشق کی مہک دینا
اے بارش شب جون اسے میرا سلام کہنا
اے بارش شب جون آج برستی رہنا
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






