آزادی کا جشن منائیں لا شوں پہ ہم کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: zeest.sun By: zeest.sun, u a eآزادی کا جشن منائیں لاشوں پہ
ہم کیسے
دل پہ جو بھی گزر ہی ہے
بیان کریں وہ کیسے
جیوے میرے دیس ہمیشہ ہی تُوجیوے
مل کے سارے ہم وطنوں ہم کو ہے رمنا
اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا
دیس گنوا نہ دینا
منہ مین میرے خاک
کبھی نہ ڈوبے پاک سفینہ
جب آزادی ہم نے پائ
رمضاں کا تھا پاک مہینہ
اللہ اپنا ایک ہے
قائد اعظم ایک ہے
جھنڈا اپنا ایک ہے
کلمہ اپنا ایک ہے
اسی لیئے تو
ایک ہی سب کو ہونا ہوگا
اپنے دیس میں امن کے بیج کو
بونا ہوگا۔۔۔۔
کیا ہم ایک نہیں ہو سکتے؟
منزل سب کی ایک ہے توپھر
سوچ کیوں سب کی الگ الگ
قائد بھی ہیں اب تو نہ جانے کیوں
سب کے جدا جدا
قائد اعظم ایک ہیں اپنے
جیسے سب کا ایک خدا
آزادی کے جشن پہ وعدہ کرنا ہوگا
اپنے دیس کی خاطر
جینا مرنا ہوگا
اپنے دیس میں مل کے
سب کو رہنا ہوگا
مل کے پورے کرنے ہیں قائد کے سپنے
ہاتھ میں کیوں بندوق اٹھاائ
یہ تو بتاؤ میرے بھائ
مار رہے ہو جس کو وہ ہے
آپ کا بھا ئ
وہ بھی مسلماں تم بھی مسلماں
پاکستان ہے وہ بھی تم بھی پاکستان
اللہ کا ہے واسطہ
بنو نہ یوں شیطان
خون خرابہ بند کرو اب
رحم کرو اس ملک پہ ہاں
اب رحم کرو
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






