Poetries by TAJ RASUL TAHIR
حسرتیں شور مچائیں تو غضب ہوتا ہے حسرتیں شور مچائیں تو غضب ہوتا ہے
راز _دل تم کو بتائیں تو غضب ہوتا ہے
آنکھ شیدائی ہے جلوے کی تمنائی ہے
تاب_جلوہ نہ بڑھائیں تو غضب ہوتا ہے
ہاتھ باندھے ہی کھڑے رہتے ہیں در پر ساکت
آپ گر بام سجائیں تو غضب ہوتا ہے
جلوے قدرت کی صناعی کے ہویدا ہیں بہت
آپ گر سامنے آئیں تو غضب ہوتا ہے
سب کو ہی بھاتی ہے کلیوں کے چٹخنےکی ادا
آپ گر ہونٹ ہلائیں تو غضب ہوتا ہے
نکہت_حسن کے چکر میں صبا گرداں ہے
آپ کی ہوں نہ عطائیں تو غضب ہوتا ہے
آپ ست سلسلہء_گفت کا من طالب ہے
آپ کے قرب میں آئیں تو غضب ہوتا ہے
تاج!کہنے کو میرا ساتھ تو دیں گے لیکن
پل میں دامن کو چھڑائیں تو غضب ہوتا ہے
Taj Rasul Tahir
راز _دل تم کو بتائیں تو غضب ہوتا ہے
آنکھ شیدائی ہے جلوے کی تمنائی ہے
تاب_جلوہ نہ بڑھائیں تو غضب ہوتا ہے
ہاتھ باندھے ہی کھڑے رہتے ہیں در پر ساکت
آپ گر بام سجائیں تو غضب ہوتا ہے
جلوے قدرت کی صناعی کے ہویدا ہیں بہت
آپ گر سامنے آئیں تو غضب ہوتا ہے
سب کو ہی بھاتی ہے کلیوں کے چٹخنےکی ادا
آپ گر ہونٹ ہلائیں تو غضب ہوتا ہے
نکہت_حسن کے چکر میں صبا گرداں ہے
آپ کی ہوں نہ عطائیں تو غضب ہوتا ہے
آپ ست سلسلہء_گفت کا من طالب ہے
آپ کے قرب میں آئیں تو غضب ہوتا ہے
تاج!کہنے کو میرا ساتھ تو دیں گے لیکن
پل میں دامن کو چھڑائیں تو غضب ہوتا ہے
Taj Rasul Tahir
ہمیں ستاؤ ستم ہے جاناں ہماری جاں پہ تمہارے یوں الطفات اٹھنا
کہاں گئے وہ حسین سپنے، وہ چاہتوں سے سجا ارادہ
ہمیں ستاؤ ، ہمیں بناؤ، دُکھاؤ دل کو قرین خواہش
چراغ سحری ہیں کیا خبر ہے کہ ایک پل ہیں یا کچھ زیادہ
تمہارے لب سے سُنے ہوئے وہ محبتوں کے حسین جُملے
ترس گئے ہیں کہ پھر سُاؤ جو ہوکے بانہوں میں ایستادہ
نگاہِ مستی کی لُٹ مچاؤ نہ ہوش آئے کسی طرح سے
ذرا سا پھر نیم وا سا ہو کے اُٹھا دو ہیجانِ دل زیادہ Taj Rasul Tahir
کہاں گئے وہ حسین سپنے، وہ چاہتوں سے سجا ارادہ
ہمیں ستاؤ ، ہمیں بناؤ، دُکھاؤ دل کو قرین خواہش
چراغ سحری ہیں کیا خبر ہے کہ ایک پل ہیں یا کچھ زیادہ
تمہارے لب سے سُنے ہوئے وہ محبتوں کے حسین جُملے
ترس گئے ہیں کہ پھر سُاؤ جو ہوکے بانہوں میں ایستادہ
نگاہِ مستی کی لُٹ مچاؤ نہ ہوش آئے کسی طرح سے
ذرا سا پھر نیم وا سا ہو کے اُٹھا دو ہیجانِ دل زیادہ Taj Rasul Tahir
بدل جاتے ہیں سچ کہا آپ نے , انسان بدل جاتے ہیں
پیار کے ,عشق کے عنوان بدل جاتے ہیں
وقت کی قید سے مجبور ہو انسان اگر
بیتے لمحات کے پیمان بدل جاتے ہیں
زندگی سانس تو لیتی ہے مگر دھیرے سے
خوب جی لینے کے ارمان بدل جاتے ہیں
زود رنجی تو فقط رعب ہے کمزوروں پر
اپنے جیسوں پہ تو امکان بدل جاتے ہیں
جان سے پیارے بھی طاہر! دم آراء سریر
آنکھ بدلیں ہی تو فرمان بدل جاتے ہیں Taj Rasul Tahir
پیار کے ,عشق کے عنوان بدل جاتے ہیں
وقت کی قید سے مجبور ہو انسان اگر
بیتے لمحات کے پیمان بدل جاتے ہیں
زندگی سانس تو لیتی ہے مگر دھیرے سے
خوب جی لینے کے ارمان بدل جاتے ہیں
زود رنجی تو فقط رعب ہے کمزوروں پر
اپنے جیسوں پہ تو امکان بدل جاتے ہیں
جان سے پیارے بھی طاہر! دم آراء سریر
آنکھ بدلیں ہی تو فرمان بدل جاتے ہیں Taj Rasul Tahir
وفور انبساط دوستاں ہو نقیب نکہت ہر گلستاں ہو
مروت بار بحر بیکراں ہو
جواں ہے بس تمہارے دم سے محفل
وفور انبساط دوستاں ہو
محبت ڈھونڈتی ہے جسکا آنچل
وفا کا پرتوء رشک جہاں ہو
ترستا ہے کوئ نظر کرم کو
کسی کے دل میں مثل شادماں ہو
سحر آگیں ہے لہجہ گفتگو کا
میرے اوساں میں تم ہی گلفشاں ہو
مجھے تو بس یہی کہنا ہے طاہر
در یکتا ہو ،نعم ارمغاں ہو Taj Rasul Tahir
مروت بار بحر بیکراں ہو
جواں ہے بس تمہارے دم سے محفل
وفور انبساط دوستاں ہو
محبت ڈھونڈتی ہے جسکا آنچل
وفا کا پرتوء رشک جہاں ہو
ترستا ہے کوئ نظر کرم کو
کسی کے دل میں مثل شادماں ہو
سحر آگیں ہے لہجہ گفتگو کا
میرے اوساں میں تم ہی گلفشاں ہو
مجھے تو بس یہی کہنا ہے طاہر
در یکتا ہو ،نعم ارمغاں ہو Taj Rasul Tahir
افسوس ہوتا ہے جہاں خوشیاں مناتا ہے اسے افسوس ہوتا ہے
میرے آقا کی آمد پر بہت ابلیس روتا ہے
جوں ہی ماہ ربیع اول کا نکلے چاند پہلی کا
تو وہ اس دن سے ہی اپنی الٹ کر کھاٹ سوتا ہے
اسے بھی یاد تو ہوتی ہے یہ تاریخ بارہ کی
مگر میلاد کےالفاظ سے بیزار ہوتا ہے
اسے گر کچھ پسند آتا ہے تو بس وقت رخصت ہی
میرے آقا کے ٹکڑے کھا کے یہ خبیث سوتا ہے
اسے اپنے سبھی بچوں کے دن تو یاد رہتے ہیں
وہ کب, کس سال اور کس وقت اسکے گھر میں ہوتا ہے
دلیلیں ڈھونڈتا ہے دوسروں کو روک لینے کی
مگر مجھ سے غلاموں سےہمیشہ دور ہوتا ہے
بہت حیران ہوتا ہوں کہ جن کی مہربانی سے
وہ بیٹھا ناؤ میں طاہر!مگر اس کو ڈبوتا ہے Taj Rasul Tahir
میرے آقا کی آمد پر بہت ابلیس روتا ہے
جوں ہی ماہ ربیع اول کا نکلے چاند پہلی کا
تو وہ اس دن سے ہی اپنی الٹ کر کھاٹ سوتا ہے
اسے بھی یاد تو ہوتی ہے یہ تاریخ بارہ کی
مگر میلاد کےالفاظ سے بیزار ہوتا ہے
اسے گر کچھ پسند آتا ہے تو بس وقت رخصت ہی
میرے آقا کے ٹکڑے کھا کے یہ خبیث سوتا ہے
اسے اپنے سبھی بچوں کے دن تو یاد رہتے ہیں
وہ کب, کس سال اور کس وقت اسکے گھر میں ہوتا ہے
دلیلیں ڈھونڈتا ہے دوسروں کو روک لینے کی
مگر مجھ سے غلاموں سےہمیشہ دور ہوتا ہے
بہت حیران ہوتا ہوں کہ جن کی مہربانی سے
وہ بیٹھا ناؤ میں طاہر!مگر اس کو ڈبوتا ہے Taj Rasul Tahir
ہو جیسے دید اک التزام ہو جیسے
محویت صبح و شام ہو جیسے
سارے پہلو میں دخل ہے اسکا
زیست اسکے ہی نام ہو جیسے
کسک جاتی نہیں کسی لمحے
قصہء نا تمام ہو جیسے
جلترنگ سا سنائی دیتا ہے
مجھ سے وہ ہم کلام ہو جیسے
اسکے لب سے جو پھوٹ کر نکلے
مسکراہٹ انعام ہو جیسے
بات سنتا ہے یوں توجہ سے
دل یہ اسکا غلام ہو جیسے
اسکی رعنائیوں کا ذکر ہی کیا
شوخ رت بے لگام ہو جیسے
روز جاتے ہیں اہتمام کے ساتھ
اسکا در فیض عام ہو جیسے
مست طاہر ہے کن خیالوں میں
جذب میں بے انام ہو جیسے Taj Rasul Tahir
محویت صبح و شام ہو جیسے
سارے پہلو میں دخل ہے اسکا
زیست اسکے ہی نام ہو جیسے
کسک جاتی نہیں کسی لمحے
قصہء نا تمام ہو جیسے
جلترنگ سا سنائی دیتا ہے
مجھ سے وہ ہم کلام ہو جیسے
اسکے لب سے جو پھوٹ کر نکلے
مسکراہٹ انعام ہو جیسے
بات سنتا ہے یوں توجہ سے
دل یہ اسکا غلام ہو جیسے
اسکی رعنائیوں کا ذکر ہی کیا
شوخ رت بے لگام ہو جیسے
روز جاتے ہیں اہتمام کے ساتھ
اسکا در فیض عام ہو جیسے
مست طاہر ہے کن خیالوں میں
جذب میں بے انام ہو جیسے Taj Rasul Tahir
Naat e Rasul (SAWW) Everything in the nature become colored
And full moon arose with the lusters.
Pleasures spread all over the world,
As the boss (with full beauties) arrived.
The Angels decorated all the skies with holy lights,
As the owner of both worlds arrived.
The Rose of Aamina (RA), the Pleasure of Halima (RA),
The Elegant one, the graced one arrived.
The rose gardens blossomed in and out Arabia,
And the luster got full beauties of colors.
The winds prides while returning back,
As atmosphere got saucy and proudly at Medina.
Tahir! Let’s adorn assembly of Darood
As Gaiety of earth and sky have arrived. Taj Rasul Tahir
And full moon arose with the lusters.
Pleasures spread all over the world,
As the boss (with full beauties) arrived.
The Angels decorated all the skies with holy lights,
As the owner of both worlds arrived.
The Rose of Aamina (RA), the Pleasure of Halima (RA),
The Elegant one, the graced one arrived.
The rose gardens blossomed in and out Arabia,
And the luster got full beauties of colors.
The winds prides while returning back,
As atmosphere got saucy and proudly at Medina.
Tahir! Let’s adorn assembly of Darood
As Gaiety of earth and sky have arrived. Taj Rasul Tahir
OFTEN I THOUGHT Often I thought,
About the Universe;
How it came into being the first?
Who fetched the mud, which made the earth?
And water;
So deep and beneath the earth,
So neat, clean and white is it.
It shines as fine as shines the mirror.
Who grew the plants, so tinny and tall?
Some full of fruits,
Some full of flowers.
If same the plants but differs the flowers,
If same the flowers but differs the plants,
It grows from a seed but takes many more,
We look after the one but
Who gives many more?
Who made the planets like sun and moon?
One lights the day and burns the noon.
Other tears the dark and exploits all,
“this meant on earth”.
Involved in love by poets and us.
It gives us pleasure many times a year.
Often I thought,
By whom a man is made by then,
“Handsome, cleaver and wise as a lawyer “.
He thinks to act and utilize power.
He dives into sea and flies in the air,
Climbs the peaks of-course he dares.
I see the birds of all kinds here.
They fetch the food without hands and arms.
They don’t have stores to keep food there
But don’t bother about nest days.
They get fresh; who gives them away?
I saw the insect which put me in thoughts,
“What does it eat, what does it drink”?
Where does it live, how does it live?
I saw it lived in a hard stone,
Beyond the approach of water and air.
Who bred it in the stone?
“It’s out of thinking zone”.
But I found, who did it, “alone”.
He is only the “Almighty Allah”
He is one and always alone.
By Taj Rasul Tahir
Taj Rasul Tahir
About the Universe;
How it came into being the first?
Who fetched the mud, which made the earth?
And water;
So deep and beneath the earth,
So neat, clean and white is it.
It shines as fine as shines the mirror.
Who grew the plants, so tinny and tall?
Some full of fruits,
Some full of flowers.
If same the plants but differs the flowers,
If same the flowers but differs the plants,
It grows from a seed but takes many more,
We look after the one but
Who gives many more?
Who made the planets like sun and moon?
One lights the day and burns the noon.
Other tears the dark and exploits all,
“this meant on earth”.
Involved in love by poets and us.
It gives us pleasure many times a year.
Often I thought,
By whom a man is made by then,
“Handsome, cleaver and wise as a lawyer “.
He thinks to act and utilize power.
He dives into sea and flies in the air,
Climbs the peaks of-course he dares.
I see the birds of all kinds here.
They fetch the food without hands and arms.
They don’t have stores to keep food there
But don’t bother about nest days.
They get fresh; who gives them away?
I saw the insect which put me in thoughts,
“What does it eat, what does it drink”?
Where does it live, how does it live?
I saw it lived in a hard stone,
Beyond the approach of water and air.
Who bred it in the stone?
“It’s out of thinking zone”.
But I found, who did it, “alone”.
He is only the “Almighty Allah”
He is one and always alone.
By Taj Rasul Tahir
Taj Rasul Tahir
گیت (میرے محسن تو کتنا حسیں ہے) میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
تجھ سا آنکھوں نے دیکھا نہیں ہے
تیری زلفوں کے سائے گھنیرے
کالی راتوں کے جیسے اندھیرے
یہ اندھیر ے رہیں ساتھ میرے
جن اندھیروں میں تو ہمنشیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
تیرا چہرہ ہے رنگ,بہاریں
جیسے کلیاں کسی نے سنواریں
جیسے شبنم کے قطروں سے دھل کر
کتنی روشن ستارہ جبیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
یہ حسیں لب نشیلی نگاہیں
میرے دل پہ نشہ بن کے چھائیں
ان نگاہوں کی بادہ کشی سے
میکدہ یاد آتا نہیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
یہ سراپا تیرا دلنشیں ہے
تجھ سے رنگیں قزاح بھی نہیں ہے
تجھ سے رونق ہے طاہر کے من میں
سو حسینوں کی اک نازنیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
تجھ سا آنکھوں نے دیکھا نہیں ہے
Taj Rasul Tahir
تجھ سا آنکھوں نے دیکھا نہیں ہے
تیری زلفوں کے سائے گھنیرے
کالی راتوں کے جیسے اندھیرے
یہ اندھیر ے رہیں ساتھ میرے
جن اندھیروں میں تو ہمنشیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
تیرا چہرہ ہے رنگ,بہاریں
جیسے کلیاں کسی نے سنواریں
جیسے شبنم کے قطروں سے دھل کر
کتنی روشن ستارہ جبیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
یہ حسیں لب نشیلی نگاہیں
میرے دل پہ نشہ بن کے چھائیں
ان نگاہوں کی بادہ کشی سے
میکدہ یاد آتا نہیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
یہ سراپا تیرا دلنشیں ہے
تجھ سے رنگیں قزاح بھی نہیں ہے
تجھ سے رونق ہے طاہر کے من میں
سو حسینوں کی اک نازنیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
تجھ سا آنکھوں نے دیکھا نہیں ہے
Taj Rasul Tahir
ایک ہیجان نہ ہو جاءے کہیں ایک ہیجان نہ ہو جاءے کہیں
درد دل عام نہ ہو جاءے کہی
ڈور سانسوں کی اٹکتی سی ہے
وصل دو گام نہ ہو جاءے کہیں
شکوہ ہم سے کہ وفا شعار نہیں
ایسی دشنام نہ ہو جاءے کہیں
ہوک اٹھتی ہے دبا لیتا ہوں
عشق بدنام نہ ہو جاءے کہیں
بیٹھتا ہوں میں پس پشت رقیب
ان پہ الزام نہ ہو جاءے کہیں
دل میں پلتی ہے تمنا طاہر!
تشت از بام نہ ہو جاءے کہیں Taj Rasul Tahir
درد دل عام نہ ہو جاءے کہی
ڈور سانسوں کی اٹکتی سی ہے
وصل دو گام نہ ہو جاءے کہیں
شکوہ ہم سے کہ وفا شعار نہیں
ایسی دشنام نہ ہو جاءے کہیں
ہوک اٹھتی ہے دبا لیتا ہوں
عشق بدنام نہ ہو جاءے کہیں
بیٹھتا ہوں میں پس پشت رقیب
ان پہ الزام نہ ہو جاءے کہیں
دل میں پلتی ہے تمنا طاہر!
تشت از بام نہ ہو جاءے کہیں Taj Rasul Tahir
فرمان حسین (رض) کیوں فضا سوگوار کرتے ہو
ظالمو! کس پہ وار کرتے ہو
مجھ کو دیکھو بھلا کہ کون ہوں میں
لعل زہراء ہوں بن بتول ہوں میں
بن علی (رض)مولاء کاءنات ہوں میں
ابن مخدومہ کاءنات ہوں میں
میں ہوں گلشن کا پھول نانا کے
پسر سردار دو جہان ہوں میں
جس پہ نوری بھی ناز کرتے ہیں
دوش نبوی کا وہ سوار ہوں میں
میرے رونے پہ شاہ عرب و عجم
دل لبھاتے تھے وہ حسین ہوں میں
ثبت بوسے ہیں میری گردن پر
دین نانا کا پاسبان ہوں میں
جس نے بخشی ہے کائنات کو عقل
ایسے قرآں کا ترجمان ہوں میں
مجھ سے نسبت حصول جنت ہے
جس کا سردار نوجوان ہوں میں
لڑنے مرنے کو میں نہیں آیا
صلح جو ہوں امن کا مان ہوں میں
ہم پہ آب فرات بند نہ کرو
آب کوثر کا میزبان ہوں میں
مجھ پہ واجب کرو گے جنگ اگر
ابن حیدر ہوں اور حسین ہوں میں
راہ حق پر تو جاں بھی حاضر ہے
جرءات و عزم کا نشان ہوں میں
حشر تک ضوفشاں رہوں گا سنو!
مثل خورشید آسمان ہوں میں
کتنے خیموں کو تم جلاؤ گے
آل ننگے سروں پھراؤ گے
چھین کر انکی چادریں سر سے
صبر کو کتنا آزماؤ گے
تم نے آل نبی پہ ظلم کئے
زندگی میں سکوں نہ پاؤ گے
تاج! شہداء کی زندگی ہے دوام
اور کتنا ہمیں رلاؤ گے Taj Rasul Tahir
ظالمو! کس پہ وار کرتے ہو
مجھ کو دیکھو بھلا کہ کون ہوں میں
لعل زہراء ہوں بن بتول ہوں میں
بن علی (رض)مولاء کاءنات ہوں میں
ابن مخدومہ کاءنات ہوں میں
میں ہوں گلشن کا پھول نانا کے
پسر سردار دو جہان ہوں میں
جس پہ نوری بھی ناز کرتے ہیں
دوش نبوی کا وہ سوار ہوں میں
میرے رونے پہ شاہ عرب و عجم
دل لبھاتے تھے وہ حسین ہوں میں
ثبت بوسے ہیں میری گردن پر
دین نانا کا پاسبان ہوں میں
جس نے بخشی ہے کائنات کو عقل
ایسے قرآں کا ترجمان ہوں میں
مجھ سے نسبت حصول جنت ہے
جس کا سردار نوجوان ہوں میں
لڑنے مرنے کو میں نہیں آیا
صلح جو ہوں امن کا مان ہوں میں
ہم پہ آب فرات بند نہ کرو
آب کوثر کا میزبان ہوں میں
مجھ پہ واجب کرو گے جنگ اگر
ابن حیدر ہوں اور حسین ہوں میں
راہ حق پر تو جاں بھی حاضر ہے
جرءات و عزم کا نشان ہوں میں
حشر تک ضوفشاں رہوں گا سنو!
مثل خورشید آسمان ہوں میں
کتنے خیموں کو تم جلاؤ گے
آل ننگے سروں پھراؤ گے
چھین کر انکی چادریں سر سے
صبر کو کتنا آزماؤ گے
تم نے آل نبی پہ ظلم کئے
زندگی میں سکوں نہ پاؤ گے
تاج! شہداء کی زندگی ہے دوام
اور کتنا ہمیں رلاؤ گے Taj Rasul Tahir
صبر زینب صبر زینب کی انتہا ہی نہیں
آپ جیسا کوئ ہوا ہی نہیں
بنت زہراء و نور عین نبی
ایسی نسبت, اور کسی کی نہیں
بھائ پیارے حسین جیسے ملے
شیر یزداں کا سلسلہ ہی نہیں
وہ تو ایثار کا نمونہ ہیں
چند گھڑیوں کا آسرا ہی نہیں
ساتھ صحراء کربلا جیسا
اور مصاءب کا شائبہ ہی نہیں
اپنے دامن کے پھول وار دئے
ایسا صدقہ کہیں ہوا ہی نہیں
جاں سے پیارے گزر گئے جاں سے
اور دینے کو کچھ رہا ہی نہیں
اپنے ہاتھوں سنبھال کر لاشے
اپنے رب سے کوئ گلہ ہی نہیں
بھائ سجدے میں سر کٹا آئے
ان کا سجدے سے سر اٹھاہی نہیں
شکر رب جلیل کرتے ہوئے
تاج ! ان کے لبوں پہ آہ نہیں
ظالموں نے تو انتہا کر لی
صبر زینب کی انتہا ہی نہیں
آپ جیسا کوئ ہوا ہی نہیں Taj Rasul Tahir
آپ جیسا کوئ ہوا ہی نہیں
بنت زہراء و نور عین نبی
ایسی نسبت, اور کسی کی نہیں
بھائ پیارے حسین جیسے ملے
شیر یزداں کا سلسلہ ہی نہیں
وہ تو ایثار کا نمونہ ہیں
چند گھڑیوں کا آسرا ہی نہیں
ساتھ صحراء کربلا جیسا
اور مصاءب کا شائبہ ہی نہیں
اپنے دامن کے پھول وار دئے
ایسا صدقہ کہیں ہوا ہی نہیں
جاں سے پیارے گزر گئے جاں سے
اور دینے کو کچھ رہا ہی نہیں
اپنے ہاتھوں سنبھال کر لاشے
اپنے رب سے کوئ گلہ ہی نہیں
بھائ سجدے میں سر کٹا آئے
ان کا سجدے سے سر اٹھاہی نہیں
شکر رب جلیل کرتے ہوئے
تاج ! ان کے لبوں پہ آہ نہیں
ظالموں نے تو انتہا کر لی
صبر زینب کی انتہا ہی نہیں
آپ جیسا کوئ ہوا ہی نہیں Taj Rasul Tahir
کیا ہو گا اس سے بڑھ کر عذاب کیا ہو گا
اور یوم حساب کیا ہو گا
سانس لینا محال ہو ہی چکا
حال اس سے خراب کیا ہو گا
جنس نایاب ہے بازار اندر
کھانا پینا جناب کیا ہو گا
چھا گئے آپ پر ذخیرہ اندوز
میرے حاکم جواب کیا ہو گا
میرے کھیتوں کی سبزیاں ناپید
خود کفالت کا خواب کیا ہو گا
قرض لیتے ہو بیچ کر ہم کو
ہم میں پھر انقلاب کیا ہو گا
علم و حکمت عطاء مغرب ہے
اس میں اپنا نصاب کیا ہو گا
عزت نفس جب نہیں طاہر!
فخر , عزت مآب کیا ہو گا Taj Rasul Tahir
اور یوم حساب کیا ہو گا
سانس لینا محال ہو ہی چکا
حال اس سے خراب کیا ہو گا
جنس نایاب ہے بازار اندر
کھانا پینا جناب کیا ہو گا
چھا گئے آپ پر ذخیرہ اندوز
میرے حاکم جواب کیا ہو گا
میرے کھیتوں کی سبزیاں ناپید
خود کفالت کا خواب کیا ہو گا
قرض لیتے ہو بیچ کر ہم کو
ہم میں پھر انقلاب کیا ہو گا
علم و حکمت عطاء مغرب ہے
اس میں اپنا نصاب کیا ہو گا
عزت نفس جب نہیں طاہر!
فخر , عزت مآب کیا ہو گا Taj Rasul Tahir
بکھر گئے سارے وصال و پریم کے سپنے بکھر گئے سارے
ذرا سی بات پہ میلے اجڑ گئے سارے
وہ رنگ و روپ بہاروں کا چھن گیا جیسے
جمال, زیست کے نقشے بگڑ گئے سارے
کہاں وہ وعدے, وہ قسمیں کہ ساتھ جیںے کی
کوئی تو پوچھے کہ پیماں کدھر گئے سارے
کیا ہے بچھڑ کے بے روح وجود کی مانند
خیال و سوچ کے تانے سکڑ گئے سارے
براہ چشم جو دل میں اتر گئے طاہر!
گئے تو دل میں مرے درد بھر گئے سارے Taj Rasul Tahir
ذرا سی بات پہ میلے اجڑ گئے سارے
وہ رنگ و روپ بہاروں کا چھن گیا جیسے
جمال, زیست کے نقشے بگڑ گئے سارے
کہاں وہ وعدے, وہ قسمیں کہ ساتھ جیںے کی
کوئی تو پوچھے کہ پیماں کدھر گئے سارے
کیا ہے بچھڑ کے بے روح وجود کی مانند
خیال و سوچ کے تانے سکڑ گئے سارے
براہ چشم جو دل میں اتر گئے طاہر!
گئے تو دل میں مرے درد بھر گئے سارے Taj Rasul Tahir
ہمارے دیس کا آدم بڑا نرالا ہے ہمارے دیس کا آدم بڑا نرالا ہے
ہر ایک نفس بنا شعلہ ء جوالا ہے
ہر ایک سوچ پہنچتی ہے انتہاؤں پر
مگر نتیجے میں اک داعرہ سا ڈالا ہے
بنا ہے دیس میرا گڑھ نئے مصاءب کا
ہر ایک سمت میں ظلمت نے دم نکالا ہے
میرے ہی دیس کے حاکم بنے ہیں خوں آشام
سبھی کے ہاتھ میں خنجر نے سر نکالا ہے
غریب شہر کو لالے پڑے ہیں جینے کے
امیر شہر نےڈالر میں ہاتھ ڈالا ہے
زمانے بھر میں اگر دام گر گئے پھر بھی
ہمارے دیس میں آءل کا بول بالا ہے
بڑھیں تو نوٹ کی صورت ہر اک مہینے میں
مگر کمی ہے تو پیسے میں فال ڈالا ہے
یہ برق و گیس کے بھالے چلیں گے غربت پر
کہ جب تلک ہمیں جمہوریت سے پالا ہے
ہمارے دیس پہ غیروں نے بھی کیا ایکا
بچے کھچے پہ ہر اک نے دہان ڈالا ہے
کوئ ڈرون کی صورت عذاب بنتا ہے
کوئ دھماکے میں سب کچھ اڑانے والا ہے
اے کاش کوئ تو ہو جو سنے غریبوں کی
ڈرون کو بھی کوئ تو گرانے والا ہے
غرور خاک میں مل کر رہے گا ظالم کا
خدا کا غضب کسی روز آنے والا ہے
جو آج سنتا نہیں ہے کسی کی آہ طاہر!
زمانے بھر میں وہ رسوا ہونے والا ہے Taj Rasul Tahir
ہر ایک نفس بنا شعلہ ء جوالا ہے
ہر ایک سوچ پہنچتی ہے انتہاؤں پر
مگر نتیجے میں اک داعرہ سا ڈالا ہے
بنا ہے دیس میرا گڑھ نئے مصاءب کا
ہر ایک سمت میں ظلمت نے دم نکالا ہے
میرے ہی دیس کے حاکم بنے ہیں خوں آشام
سبھی کے ہاتھ میں خنجر نے سر نکالا ہے
غریب شہر کو لالے پڑے ہیں جینے کے
امیر شہر نےڈالر میں ہاتھ ڈالا ہے
زمانے بھر میں اگر دام گر گئے پھر بھی
ہمارے دیس میں آءل کا بول بالا ہے
بڑھیں تو نوٹ کی صورت ہر اک مہینے میں
مگر کمی ہے تو پیسے میں فال ڈالا ہے
یہ برق و گیس کے بھالے چلیں گے غربت پر
کہ جب تلک ہمیں جمہوریت سے پالا ہے
ہمارے دیس پہ غیروں نے بھی کیا ایکا
بچے کھچے پہ ہر اک نے دہان ڈالا ہے
کوئ ڈرون کی صورت عذاب بنتا ہے
کوئ دھماکے میں سب کچھ اڑانے والا ہے
اے کاش کوئ تو ہو جو سنے غریبوں کی
ڈرون کو بھی کوئ تو گرانے والا ہے
غرور خاک میں مل کر رہے گا ظالم کا
خدا کا غضب کسی روز آنے والا ہے
جو آج سنتا نہیں ہے کسی کی آہ طاہر!
زمانے بھر میں وہ رسوا ہونے والا ہے Taj Rasul Tahir
رہنے دے خامشی ۔۔آج رات رہنے دے
لب پہ آئ ہے بات۔ رہنے دے
ایک عرصہ گزر گیا یونہی
ایک دم الطفات ۔ رہنے دے
دل تو خوگر ہوا ہے ہجراں کا
اسکو بس حسب حال ۔ رہنے دے
عمر گزری ہے اب رفو کرتے
میرے دامن کو چاک رہنے دے
جانتا ہوں وفا شعار ہو تم
منہ پہ سجتی ہے بات۔ رہنے دے
اپنے جلوے سنبھال کر رکھنا
کچھ تو اپنی بساط رہنے دے
تنکا تنکا چنا ہے مشکل سے
بجلیوں کی سوغات رہنے دے
ہم پہ طاہر! رقیب ہی کے طفیل
مہر مثل , خیرات ۔ رہنے دے taj rasul tahir
لب پہ آئ ہے بات۔ رہنے دے
ایک عرصہ گزر گیا یونہی
ایک دم الطفات ۔ رہنے دے
دل تو خوگر ہوا ہے ہجراں کا
اسکو بس حسب حال ۔ رہنے دے
عمر گزری ہے اب رفو کرتے
میرے دامن کو چاک رہنے دے
جانتا ہوں وفا شعار ہو تم
منہ پہ سجتی ہے بات۔ رہنے دے
اپنے جلوے سنبھال کر رکھنا
کچھ تو اپنی بساط رہنے دے
تنکا تنکا چنا ہے مشکل سے
بجلیوں کی سوغات رہنے دے
ہم پہ طاہر! رقیب ہی کے طفیل
مہر مثل , خیرات ۔ رہنے دے taj rasul tahir
روئے گل مسکرا کے کھل جائے روئے گل مسکرا کے کھل جائے
شوج جذبوں کو نام مل جائے
اک ترنم بھری سماعت ہو
پنکھڑی لب ذرا سا ہل جائے
پیرہن ہے یا تتلیوں کی عبا
جیسے قوس قزاح نکل آئے
ایک ہیجان خیز مست نظر
اک زمانے کا دم نکل جائے
ڈھانپ رکھو یہ مرمریں سا وجود
چشم بے خود پھسل پھسل جائے
آپ سا چارا گر میسر ہو
کیوں نہ طاہر ! یہ دل مچل جائے taj rasul tahir
شوج جذبوں کو نام مل جائے
اک ترنم بھری سماعت ہو
پنکھڑی لب ذرا سا ہل جائے
پیرہن ہے یا تتلیوں کی عبا
جیسے قوس قزاح نکل آئے
ایک ہیجان خیز مست نظر
اک زمانے کا دم نکل جائے
ڈھانپ رکھو یہ مرمریں سا وجود
چشم بے خود پھسل پھسل جائے
آپ سا چارا گر میسر ہو
کیوں نہ طاہر ! یہ دل مچل جائے taj rasul tahir