Poetries by Shahzad Shameem
شکر و شکايت ميں بندہ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تيرا
رکھتا ہوں نہاں خانہ لاہوت سے پيوند
اک ولولہ تازہ ديا ميں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند
تاثير ہے يہ ميرے نفس کی کہ خزاں ميں
مرغان سحر خواں میری صحبت ميں ہيں خورسند
ليکن مجھے پيدا کيا اس ديس ميں تو نے
جس ديس کے بندے ہيں غلامی پہ رضا مند
Shahzad Shameem
رکھتا ہوں نہاں خانہ لاہوت سے پيوند
اک ولولہ تازہ ديا ميں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند
تاثير ہے يہ ميرے نفس کی کہ خزاں ميں
مرغان سحر خواں میری صحبت ميں ہيں خورسند
ليکن مجھے پيدا کيا اس ديس ميں تو نے
جس ديس کے بندے ہيں غلامی پہ رضا مند
Shahzad Shameem
مومن مومن
دنيا ميں
ہو حلقہ ياراں تو بريشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
افلاک سے ہے اس کی حريفانہ کشاکش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن
جچتے نہيں کنجشک و حمام اس کی نظر ميں
جبريل و سرافيل کا صياد ہے مومن
جنت ميں
کہتے ہيں فرشتے کہ دل آويز ہے مومن
حوروں کو شکايت ہے کم آميز ہے مومن
Shahzad Shameem
دنيا ميں
ہو حلقہ ياراں تو بريشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
افلاک سے ہے اس کی حريفانہ کشاکش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن
جچتے نہيں کنجشک و حمام اس کی نظر ميں
جبريل و سرافيل کا صياد ہے مومن
جنت ميں
کہتے ہيں فرشتے کہ دل آويز ہے مومن
حوروں کو شکايت ہے کم آميز ہے مومن
Shahzad Shameem
اے روح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شيرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا، تيرا مسلمان کدھر جائے
وہ لذت آشوب نہيں بحر عرب ميں
پوشيدہ جو ہے مجھ ميں، وہ طوفان کدھر جائے
ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہ و بياباں سے حدی خوان کدھر جائے
اس راز کو اب فاش کر اے روح محمد
آيات الہی کا نگہبان کدھر جائے
Shahzad Shameem
اب تو ہی بتا، تيرا مسلمان کدھر جائے
وہ لذت آشوب نہيں بحر عرب ميں
پوشيدہ جو ہے مجھ ميں، وہ طوفان کدھر جائے
ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہ و بياباں سے حدی خوان کدھر جائے
اس راز کو اب فاش کر اے روح محمد
آيات الہی کا نگہبان کدھر جائے
Shahzad Shameem
شکر و شکايت ميں بندہ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تيرا
رکھتا ہوں نہاں خانہ لاہوت سے پيوند
اک ولولہ تازہ ديا ميں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند
تاثير ہے يہ ميرے نفس کی کہ خزاں ميں
مرغان سحر خواں میری صحبت ميں ہيں خورسند
ليکن مجھے پيدا کيا اس ديس ميں تو نے
جس ديس کے بندے ہيں غلامی پہ رضا مند
Shahzad Shameem
رکھتا ہوں نہاں خانہ لاہوت سے پيوند
اک ولولہ تازہ ديا ميں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند
تاثير ہے يہ ميرے نفس کی کہ خزاں ميں
مرغان سحر خواں میری صحبت ميں ہيں خورسند
ليکن مجھے پيدا کيا اس ديس ميں تو نے
جس ديس کے بندے ہيں غلامی پہ رضا مند
Shahzad Shameem
شوخی نظارہ دل مردہ دل نہيں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
کہ يہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
تیرا بحر پر سکوں ہے، يہ سکوں ہے يا فسوں ہے؟
نہ نہنگ ہے، نہ طوفاں، نہ خرابی کنارہ
تو ضمير آسماں سے ابھی آشنا نہيں ہے
نہيں بے قرار کرتا تجھے غمزہ ستارہ
تیرے نيستاں ميں ڈالا میرے نغمہ سحر نے
میری خاک پے سپر ميں جو نہاں تھا اک شرارہ
نظر آئے گا اسی کو يہ جہان دوش و فردا
جسے آگئی ميسر میری شوخی نظارہ
Shahzad Shameem
کہ يہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
تیرا بحر پر سکوں ہے، يہ سکوں ہے يا فسوں ہے؟
نہ نہنگ ہے، نہ طوفاں، نہ خرابی کنارہ
تو ضمير آسماں سے ابھی آشنا نہيں ہے
نہيں بے قرار کرتا تجھے غمزہ ستارہ
تیرے نيستاں ميں ڈالا میرے نغمہ سحر نے
میری خاک پے سپر ميں جو نہاں تھا اک شرارہ
نظر آئے گا اسی کو يہ جہان دوش و فردا
جسے آگئی ميسر میری شوخی نظارہ
Shahzad Shameem
قلندر کي پہچان کہتا ہے زمانے سے يہ درويش جواں مرد
جاتا ہے جدھر بندہ حق، تو بھی ادھر جا
ہنگامے ہيں ميرے تیری طاقت سے زيادہ
بچتا ہوا بنگاہ قلندر سے گزر جا
ميں کشتی و ملاح کا محتاج نہ ہوں گا
چڑھتا ہوا دريا ہے اگر تو تو اتر جا
توڑا نہيں جادو میری تکبير نے تيرا؟
ہے تجھ ميں مکر جانے کی جرات تو مکر جا
مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ايام کا مرکب نہيں، راکب ہے قلندر Shahzad Shameem
جاتا ہے جدھر بندہ حق، تو بھی ادھر جا
ہنگامے ہيں ميرے تیری طاقت سے زيادہ
بچتا ہوا بنگاہ قلندر سے گزر جا
ميں کشتی و ملاح کا محتاج نہ ہوں گا
چڑھتا ہوا دريا ہے اگر تو تو اتر جا
توڑا نہيں جادو میری تکبير نے تيرا؟
ہے تجھ ميں مکر جانے کی جرات تو مکر جا
مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ايام کا مرکب نہيں، راکب ہے قلندر Shahzad Shameem
اجتہاد ہند ميں حکمت ديں کوئی کہاں سے سيکھے
نہ کہيں لذت کردار، نہ افکار عميق
حلقہ شوق ميں وہ جرات انديشہ کہاں
آہ محکومی و تقليد و زوال تحقيق
خود بدلتے نہيں، قرآں کو بدل ديتے ہيں
ہوئے کس درجہ فقيہان حرم بے توفيق
ان غلاموں کا يہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہيں مومن کو غلامی کے طريق Shahzad Shameem
نہ کہيں لذت کردار، نہ افکار عميق
حلقہ شوق ميں وہ جرات انديشہ کہاں
آہ محکومی و تقليد و زوال تحقيق
خود بدلتے نہيں، قرآں کو بدل ديتے ہيں
ہوئے کس درجہ فقيہان حرم بے توفيق
ان غلاموں کا يہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہيں مومن کو غلامی کے طريق Shahzad Shameem
تصوف يہ حکمت ملکوتی، يہ علم لاہوتی
حرم کے درد کا درماں نہيں تو کچھ بھی نہيں
يہ ذکر نيم شبی ، يہ مراقبے ، يہ سرور
تیری خودی کے نگہباں نہيں تو کچھ بھی نہيں
يہ عقل، جو مہ و پرويں کا کھيلتی ہے شکار
شريک شورش پنہاں نہيں تو کچھ بھی نہيں
خرد نے کہہ بھي ديا 'لاالہ' تو کيا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہيں تو کچھ بھی نہيں
عجب نہيں کہ پريشاں ہے گفتگو ميري
فروغ صبح پريشاں نہيں تو کچھ بھی نہيں
رياض منزل (دولت کدہ سرراس مسعود) بھوپال ميں لکھے گئے
Shahzad Shameem
حرم کے درد کا درماں نہيں تو کچھ بھی نہيں
يہ ذکر نيم شبی ، يہ مراقبے ، يہ سرور
تیری خودی کے نگہباں نہيں تو کچھ بھی نہيں
يہ عقل، جو مہ و پرويں کا کھيلتی ہے شکار
شريک شورش پنہاں نہيں تو کچھ بھی نہيں
خرد نے کہہ بھي ديا 'لاالہ' تو کيا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہيں تو کچھ بھی نہيں
عجب نہيں کہ پريشاں ہے گفتگو ميري
فروغ صبح پريشاں نہيں تو کچھ بھی نہيں
رياض منزل (دولت کدہ سرراس مسعود) بھوپال ميں لکھے گئے
Shahzad Shameem
غارت گر ديں ہے يہ زمانہ غارت گر ديں ہے يہ زمانہ
ہے اس کی نہاد کافرانہ
دربار شہنشہی سے خوشتر
مردان خدا کا آستانہ
ليکن يہ دور ساحری ہے
انداز ہيں سب کے جادوانہ
سرچشمہ زندگی ہوا خشک
باقی ہے کہاں مے شبانہ
خالی ان سے ہوا دبستاں
تھی جن کی نگاہ تازيانہ
جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ
جوہر ميں ہو 'لاالہ' تو کيا خوف
تعليم ہو گو فرنگيانہ
شاخ گل پر چہک وليکن
کر اپنی خودی ميں آشيانہ!
وہ بحر ہے آدمی کہ جس کا
ہر قطرہ ہے بحر بيکرانہ
دہقان اگر نہ ہو تن آساں
ہر دانہ ہے صد ہزار دانہ
''غافل منشيں نہ وقت بازي ست
وقت ہنر است و کارسازي ست'' Shahzad Shameem
ہے اس کی نہاد کافرانہ
دربار شہنشہی سے خوشتر
مردان خدا کا آستانہ
ليکن يہ دور ساحری ہے
انداز ہيں سب کے جادوانہ
سرچشمہ زندگی ہوا خشک
باقی ہے کہاں مے شبانہ
خالی ان سے ہوا دبستاں
تھی جن کی نگاہ تازيانہ
جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ
جوہر ميں ہو 'لاالہ' تو کيا خوف
تعليم ہو گو فرنگيانہ
شاخ گل پر چہک وليکن
کر اپنی خودی ميں آشيانہ!
وہ بحر ہے آدمی کہ جس کا
ہر قطرہ ہے بحر بيکرانہ
دہقان اگر نہ ہو تن آساں
ہر دانہ ہے صد ہزار دانہ
''غافل منشيں نہ وقت بازي ست
وقت ہنر است و کارسازي ست'' Shahzad Shameem
امامت تو نے پوچھی ہے امامت کی حقيقت مجھ سے
حق تجھے ميری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تيرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بيزار کرے
موت کے آئینے ميں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تيرے ليے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زياں تيرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے
Shahzad Shameem
حق تجھے ميری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تيرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بيزار کرے
موت کے آئینے ميں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تيرے ليے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زياں تيرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے
Shahzad Shameem
حضرت انسان جہاں ميں دانش و بينش کی ہے کس درجہ ارزانی
کوئی شے چھپ نہيں سکتی کہ يہ عالم ہے نورانی
کوئی ديکھے تو ہے باريک فطرت کا حجاب اتنا
نماياں ہيں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہانی
يہ دنيا دعوت ديدار ہے فرزند آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گيا ہے ذوق عريانی
يہی فرزند آدم ہے کہ جس کے اشک خونيں سے
کيا ہے حضرت يزداں نے درياؤں کو طوفانی
فلک کو کيا خبر يہ خاکداں کس کا نشيمن ہے
غرض انجم سے ہے کس کے شبستاں کی نگہبانی
اگر مقصود کل ميں ہوں تو مجھ سے ماورا کيا ہے
مرے ہنگامہ ہائے نو بہ نو کی انتہا کيا ہے؟ Shahzad Shameem
کوئی شے چھپ نہيں سکتی کہ يہ عالم ہے نورانی
کوئی ديکھے تو ہے باريک فطرت کا حجاب اتنا
نماياں ہيں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہانی
يہ دنيا دعوت ديدار ہے فرزند آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گيا ہے ذوق عريانی
يہی فرزند آدم ہے کہ جس کے اشک خونيں سے
کيا ہے حضرت يزداں نے درياؤں کو طوفانی
فلک کو کيا خبر يہ خاکداں کس کا نشيمن ہے
غرض انجم سے ہے کس کے شبستاں کی نگہبانی
اگر مقصود کل ميں ہوں تو مجھ سے ماورا کيا ہے
مرے ہنگامہ ہائے نو بہ نو کی انتہا کيا ہے؟ Shahzad Shameem
بيٹے کو بڈھے بلوچ کي نصيحت ہو تيرے بياباں کی ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دلی نہ بخارا
جس سمت ميں چاہے صفت سيل رواں چل
وادی يہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا
غيرت ہے بڑی چيز جہان تگ و دو ميں
پہناتی ہے درويش کو تاج سر دارا
حاصل کسی کامل سے يہ پوشيدہ ہنر کر
کہتے ہيں کہ شيشے کو بنا سکتے ہيں خارا
افراد کے ہاتھوں ميں ہے اقوام کی تقدير
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
محروم رہا دولت دريا سے وہ غواص
کرتا نہيں جو صحبت ساحل سے کنارا
ديں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ايسی تجارت ميں مسلماں کا خسارا
دنيا کو ہے پھر معرکہ روح و بدن پيش
تہذيب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسا
ابليس کو يورپ کی مشينوں کا سہارا
تقدير امم کيا ہے، کوئی کہہ نہيں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا
اخلاص عمل مانگ نيا گان کہن سے
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا Shahzad Shameem
اس دشت سے بہتر ہے نہ دلی نہ بخارا
جس سمت ميں چاہے صفت سيل رواں چل
وادی يہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا
غيرت ہے بڑی چيز جہان تگ و دو ميں
پہناتی ہے درويش کو تاج سر دارا
حاصل کسی کامل سے يہ پوشيدہ ہنر کر
کہتے ہيں کہ شيشے کو بنا سکتے ہيں خارا
افراد کے ہاتھوں ميں ہے اقوام کی تقدير
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
محروم رہا دولت دريا سے وہ غواص
کرتا نہيں جو صحبت ساحل سے کنارا
ديں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ايسی تجارت ميں مسلماں کا خسارا
دنيا کو ہے پھر معرکہ روح و بدن پيش
تہذيب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسا
ابليس کو يورپ کی مشينوں کا سہارا
تقدير امم کيا ہے، کوئی کہہ نہيں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا
اخلاص عمل مانگ نيا گان کہن سے
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا Shahzad Shameem
رباعيات اقبال میری شاخ امل کا ہے ثمر کيا
میری شاخ امل کا ہے ثمر کيا
تیری تقدير کی مجھ کو خبر کيا
کلی گل کی ہے محتاج کشود آج
نسيم صبح فردا پر نظر کيا
فراغت دے اسے کار جہاں سے
فراغت دے اسے کار جہاں سے
کہ چھوٹے ہر نفس کے امتحاں سے
ہوا پيری سے شيطاں کہنہ انديش
گناہ تازہ تر لائے کہاں سے
دگرگوں عالم شام و سحر کر
دگرگوں عالم شام و سحر کر
جہان خشک و تر زير و زبر کر
رہے تيری خدائی داغ سے پاک
میرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر
غريبی ميں ہوں محسود اميری
غريبی ميں ہوں محسود اميری
کہ غيرت مند ہے ميری فقيری
حذر اس فقر و درويشی سے، جس نے
مسلماں کو سکھا دی سر بزيری
خرد کی تنگ دامانی سے فرياد
خرد کی تنگ دامانی سے فرياد
تجلی کی فراوانی سے فرياد
گوارا ہے اسے نظارہ غير
نگہ کی نا مسلمانی سے فرياد
کہا اقبال نے شيخ حرم سے
کہا اقبال نے شيخ حرم سے
تہ محراب مسجد سو گيا کون
ندا مسجد کی ديواروں سے آئی
فرنگی بت کدے ميں کھو گيا کون
کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
کہ ہے مرد مسلماں کا لہو سرد
بتوں کو ميری لادينی مبارک
کہ ہے آج آتش 'اللہ ھو، سرد
حديث بندہ مومن دل آويز
حديث بندہ مومن دل آويز
جگر پر خوں، نفس روشن، نگہ تيز
ميسر ہو کسے ديدار اس کا
کہ ہے وہ رونق محفل کم آميز
تميز خار و گل سے آشکارا
تميز خار و گل سے آشکارا
نسيم صبح کی روشن ضميري
حفاظت پھول کی ممکن نہيں ہے
اگر کانٹے ميں ہو خوئے حريری
نہ کر ذکر فراق و آشنائی
نہ کر ذکر فراق و آشنائی
کہ اصل زندگی ہے خود نمائی
نہ دريا کا زياں ہے، نے گہر کا
دل دريا سے گوہر کی جدائی
تیرے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے
تیرے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے
خودی تيری مسلماں کيوں نہيں ہے
عبث ہے شکوہ تقدير يزداں
تو خود تقدير يزداں کيوں نہيں ہے
خرد ديکھے اگر دل کی نگہ سے
خرد ديکھے اگر دل کی نگہ سے
جہاں روشن ہے نور 'لا الہ' سے
فقط اک گردش شام و سحر ہے
اگر ديکھيں فروغ مہر و مہ سے
کبھی دريا سے مثل موج ابھر کر
کبھی دريا سے مثل موج ابھر کر
کبھی دريا کے سينے ميں اتر کر
کبھی دريا کے ساحل سے گزر کر
مقام اپنی خودی کا فاش تر کر Shahzad Shameem
میری شاخ امل کا ہے ثمر کيا
تیری تقدير کی مجھ کو خبر کيا
کلی گل کی ہے محتاج کشود آج
نسيم صبح فردا پر نظر کيا
فراغت دے اسے کار جہاں سے
فراغت دے اسے کار جہاں سے
کہ چھوٹے ہر نفس کے امتحاں سے
ہوا پيری سے شيطاں کہنہ انديش
گناہ تازہ تر لائے کہاں سے
دگرگوں عالم شام و سحر کر
دگرگوں عالم شام و سحر کر
جہان خشک و تر زير و زبر کر
رہے تيری خدائی داغ سے پاک
میرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر
غريبی ميں ہوں محسود اميری
غريبی ميں ہوں محسود اميری
کہ غيرت مند ہے ميری فقيری
حذر اس فقر و درويشی سے، جس نے
مسلماں کو سکھا دی سر بزيری
خرد کی تنگ دامانی سے فرياد
خرد کی تنگ دامانی سے فرياد
تجلی کی فراوانی سے فرياد
گوارا ہے اسے نظارہ غير
نگہ کی نا مسلمانی سے فرياد
کہا اقبال نے شيخ حرم سے
کہا اقبال نے شيخ حرم سے
تہ محراب مسجد سو گيا کون
ندا مسجد کی ديواروں سے آئی
فرنگی بت کدے ميں کھو گيا کون
کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
کہ ہے مرد مسلماں کا لہو سرد
بتوں کو ميری لادينی مبارک
کہ ہے آج آتش 'اللہ ھو، سرد
حديث بندہ مومن دل آويز
حديث بندہ مومن دل آويز
جگر پر خوں، نفس روشن، نگہ تيز
ميسر ہو کسے ديدار اس کا
کہ ہے وہ رونق محفل کم آميز
تميز خار و گل سے آشکارا
تميز خار و گل سے آشکارا
نسيم صبح کی روشن ضميري
حفاظت پھول کی ممکن نہيں ہے
اگر کانٹے ميں ہو خوئے حريری
نہ کر ذکر فراق و آشنائی
نہ کر ذکر فراق و آشنائی
کہ اصل زندگی ہے خود نمائی
نہ دريا کا زياں ہے، نے گہر کا
دل دريا سے گوہر کی جدائی
تیرے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے
تیرے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے
خودی تيری مسلماں کيوں نہيں ہے
عبث ہے شکوہ تقدير يزداں
تو خود تقدير يزداں کيوں نہيں ہے
خرد ديکھے اگر دل کی نگہ سے
خرد ديکھے اگر دل کی نگہ سے
جہاں روشن ہے نور 'لا الہ' سے
فقط اک گردش شام و سحر ہے
اگر ديکھيں فروغ مہر و مہ سے
کبھی دريا سے مثل موج ابھر کر
کبھی دريا سے مثل موج ابھر کر
کبھی دريا کے سينے ميں اتر کر
کبھی دريا کے ساحل سے گزر کر
مقام اپنی خودی کا فاش تر کر Shahzad Shameem